Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
376 - 1245
	حضرت سیِّدُناابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:جب بھی کوئی شخص زمین پر لعنت بھیجتاہے تو زمین کہتی ہے :اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس پر لعنت فرمائے جو ہم میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کازیادہ نافرمان ہے۔
کیا صدیق بھی لعنت کرنے والا ہوتا ہے؟
﴿4﴾…اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدّیْقَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں کہ حُضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے والِدِماجِدحضرت ابو بکرصِدِّیْقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنےکسی  غلام کو لعنت کرتے سنا تو ان کی طرف متوجہ ہوکر ارشاد فرمایا:”اے ابو بکر!کیاصدیق بھی لعنت کرنے والا ہوتا ہے،ربِّ کعبہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔“ آپ نے یہ بات دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔چنانچہ والِدِماجِدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسی دن اپنے  غلام کو آزاد کردیا اور بارگاہِ رسالت  میں حاضر ہوکر عرض کی کہ دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔
﴿5﴾…لعنت کرنے والوں کو بروزقیامت نہ مرتبہ ٔ شفاعت ملے گا اور نہ ہی وہ (سابقہ امتوں پر)گواہ بنیں گے۔ (1)
﴿6﴾…حضرت سیِّدُنااَنَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ایک شخص رسولِ پاک  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہم سفر تھا، اس نے اپنے اونٹ کو لعنت کی توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اے اللہ کے بندے! ہمارے ساتھ ملعون(یعنی لعنت کئے گئے)اونٹ پر نہ چلو۔(2)
	یہ بات آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےلعنت کے فعل سے منع کرنے کے لئے ارشاد فرمائی۔
لعنت کی تعریف:
	لعنت کا مطلب ہےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ (کی رحمت)سے دھتکار نا اور دور کرنا اور یہ صرف  اس شخص پر جا ئز ہے جس کے اندراللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دور کرنے والی صِفَت پائی جا تی ہو اور وہ صِفَت کُفر اور ظُلْم ہے۔ لعنت کرنے میں اس طرح کہےکہ ظالموں اور کا فروں پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی لعنت ۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا رسول غیب پر مطلع ہوتا ہے:
	اس سلسلے میں اسے چاہئے کہ شریعت کے بیان کردہ الفاظ کی پیروی کرے کیو نکہ لعنت میں خطرہ ہے اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم، کتاب البروالصلة والاداب، باب ماجاء فی اللعنة ، ص ۱۴۰۰، حدیث : ۲۵۹۸
2…موسوعة الامام  ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت،۷/ ۲۳۶، حدیث : ۳۹۰