ایک رِوایت میں ہے: کبیرہ گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا ہے۔صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کو ئی شخص اپنے والدین کو کیسے گالی دے سکتا ہے؟ ارشاد فرمایا:یہ کسی کے باپ کو گالی دے تو دوسرا اس کے باپ کو گالی دے۔(1)
آفت نمبر8: لعنت کرنا
لعنت چاہے حیوانات پر ہو، جمادات پر ہو یاپھر انسانوں پر ہوسب قابل مذمت ہے۔
لعنت کی مذمت پر مشتمل چھ فرامین مصطفٰے:
﴿1﴾…اَلْمُؤْمِنُ لَـیْسَ بِلَعَّانٍ یعنی مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔(2)
﴿2﴾…لَا تَلَاعَـنُوْابِلَعْنَةِ اللّٰہِ وَلَابِغَضَبِہٖ وَلَابِجَھَـنَّم یعنی ایک دوسرےپراللہ عَزَّ وَجَلَّ، اس کے غضب اور جہنم کی لعنت نہ بھیجو۔(3)
حضرت سیِّدُناحذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: جو قوم بھی ایک دوسرے پر لعنت بھیجتی ہے ان پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عذاب ثابت (یعنی واجب)ہوجاتا ہے(4)۔
﴿3﴾…حضرت سیِّدُناعمران بن حُصینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی سفر میں تھے ۔ایک انصاری عورت بھی اپنی اونٹنی پر سُوار تھی کہ اچانک اونٹنی مُضْطَرِب ہوگئی تو اس نے اس پر لعنت کی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :اس پر سے سامان اتار لو اور اسےبغیر سامان کے خالی چھوڑدو کیونکہ یہ ملعونہ (یعنی لعنت کی گئی)ہے ۔حضرت سیِّدُناعمرانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: گویامیں اس اونٹنی کو لوگوں کے درمیان چلتا ہو ا دیکھ رہا ہوں لیکن کوئی اس پر سامان نہیں رکھتا۔ (5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم ، کتاب الایمان، باب الکبائرواکبرھا،ص۶۰، حدیث :۹۰
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب البروالاحسان، باب حق الوالدین،۱/ ۳۱۷، حدیث: ۴۱۳
2…سنن الترمذی، کتاب البرو الصلة، باب ماجاء فی اللعنة،۳/ ۳۹۳،حدیث :۱۹۸۴
3…سنن الترمذی، کتاب ا لبروالصلة، باب ماجاء فی اللعنة،۳/ ۳۹۳ ،حدیث :۱۹۸۳
4…حضرت سیِّدُناحذیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس فرمان میں تلاعن سے مراد وہ لعان ہے جو مرد وعورت کے مابین ہوتا ہے وہ لعنت مراد نہیں جو لوگ اپنی گفتگومیں ایک دوسرے کو کرتے ہیں۔(اتحاف السادة المتقین،۹/ ۱۹۷)
5… مسلم، کتاب البروالصلة والاداب، باب النھی عن لعن الدواب وغیرھا، ص ۱۳۹۹،حدیث : ۲۵۹۵