Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
373 - 1245
یوں کہا جائے کہ بچوں کی امی نے یہ کہا:
	اسی طرح عورتوں سے کنایہ کرنے کو بھی عموماًاچھا سمجھا جاتا  ہے،لہٰذایہ نہ کہا جائے کہ تمہاری بيوی نے یہ بات کہی بلکہ یہ کہا جائے کہ حجرے(یعنی گھر)میں یوں کہا گیا ہے یا پردے کے پیچھے سے یہ بات کہی گئی ہے یا بچوں کی امی نے یہ کہا ،تو (جس حد تک ممکن ہو)ان الفاظ میں پاکیزگی (شرعاً)محمود ہےاور صراحت کے ساتھ ان کا استعما ل فحش تک لے جا تا ہے ۔
	اسی طرح جس شخص میں کچھ عیوب ہوں جن سےوہ شرماتا ہو، انہیں صریح الفاظ میں ذکر نہیں کرنا چاہیے جیسے کہ برص،گنج کی بیماری،اور بواسیر،بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ  اسے ایک مرض ہے جس کے سبب وہ تکلیف میں مبتلا ہے اور اس قسم کے دوسرے الفاظ کہنے چاہئے، انہیں صریح الفاظ کے ساتھ ذکر کرنا فحش میں داخل ہے اور یہ سب زبان کی آفات میں سے ہیں۔
سیِّدُناعمر بن عبدالعزیزرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی حیا:
	حضرت سیِّدُناعلاء بن ہارون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُناعمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز محتاط گفتگو فرماتے تھے، آپ کی بغل میں پھوڑا نکل آیا۔ ہم اس کے متعلق آپ سے پوچھنے کے لئے آئے تا کہ دیکھیں کہ آپ کیا فرماتے ہیں؟ چنا نچہ ہم نے پوچھا کہ کہاں نکلا ہے؟ ارشاد فرمایا:ہاتھ کے اندرونی حصے میں۔
فحش گوئی کےدوسبب:
	فحش گوئی کا سبب مخاطب کو ایذا پہنچانے کا قصد ہوتاہے یاپھرفحش گوئی عادت  کے سبب ہوتی ہےجو کہ فاسقوں سے میل جول اور بد باطن اور کمینے لوگوں کی صحبت سے بنتی ہے اور ان بدباطن اور کمینے لوگوں کی  ایک عادت گالی دینا بھی ہے۔
ایک اَعرابی کونصیحت:
	ایک اعرابی نے حُسن اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےعرض کی:مجھے نصیحت فرمائیے، ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے ڈرتے رہواور اگر کوئی شخص تمہاراعیب بیان کرے جسےوہ