امور کو صریح الفاظ میں ذکر کرنا ہے ۔فحش گوئی اکثرجماع اور اس سے متعلق باتوں میں ہوتی ہےکیونکہ یہ بدکردار و بد چلن لوگوں کے اس معاملے میں صریح فحش الفاظ ہیں جنہیں وہ استعمال کرتے ہیں جبکہ نیک لوگ ان سے بچتے ہیں بلکہ(بَوَقْتِ ضرورت)کنایتاًکہتے ہیں اور اشاروں کے ذریعے انہیں سمجھاتے ہیں اور ایسے الفاظ ذکر کرتے ہیں جو ان کے قریب قریب اور ان سے متعلق ہوتے ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ اشارۃً بیان فرماتا ہے:
حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: ”بے شک اللہعَزَّ وَجَلَّ حیاوالا ،کریم ہے اورناپسندیدہ چیزوں کو صراحتاًبیان نہیں فرماتا بلکہ اشارتاًبیان فرماتاہے۔اس نے جماع کا ذکرلَمْس(یعنی چھونے)کے ذریعے کیا۔“
چنانچہ مَسیس ولَمْس(یعنی چھونا) ،دُخُول اورصحبت وغیرہ اَلفاظ جِماع (یعنی ہم بستری)کی طرف اشارے کے لئے ہیں اور یہ فحش الفاظ نہیں ہیں۔جبکہ اس موقع پرایسےفحش الفاظ بولے جاتےہیں جن کے ذکر کو بھی برا سمجھا جاتا ہے اور ان میں سے اکثر گالی دینے اور عیب لگانے میں استعمال ہوتے ہیں اوریہ الفاظ ،فحش میں مختلف ہیں،ان میں سےبعض دوسرےبعض کی نسبت زیادہ فحش ہیں اور یہ بعض اوقات شہروں کی عادت کے سبب مختلف ہوجاتے ہیں اور ان میں جو ابتدائی درجے کے ہیں وہ مکروہ ہیں اور جو آخری درجے کے ہیں وہ ممنوع ہیں اور جو درمیانی درجےکے ہیں ان میں(مکروہ یا ممنوع ہونے کے حوالے سے) تَرَدُّد ہے۔
کنایہ کا استعمال صرف جماع کے ساتھ خاص نہیں:
کنایہ(اشارتاً گفتگو) کا استعمال صرف جِماع کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ پیشاب کے لئے قضائے حاجت کا لفظ بطور کنایہ بو لا جا تا ہے اور(عربی میں)اَلتَّغَوُّطاوراَلْخِرآءَۃوغیرہ الفاظ کی بنسبت،لفظ غَائِط ،اولیٰ اورزیادہ مناسب ہے(سب کا معنی پاخانہ کرنا ہے )،یہ بھی ان چیزوں میں سے ہے جن کو چُھپایا جاتا ہے اور ہر وہ چیز جسےچھپایا جاتا ہے اسے ذکر کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے،لہٰذا انہیں صِرِیْح الفاظ میں ذکر کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا فحش ہے۔