کے ساتھ ساتھ مزید تکلیف کا باعث بنیں گے ،وہ کھولتے پانی اور بھڑکتی آگ کے درمیان دوڑتے ہوئے موت مانگتے ہوں گے، (ان چار اشخاص میں سے )ایک شخص وہ ہوگا جس کے منہ سےپیپ اور خون بہہ رہا ہوگا،اس سے کہا جائے گا:اس بد نصیب کا کیا معاملہ ہے جس نے ہماری تکلیف کو اور زیادہ کر دیا؟ وہ کہے گا: میں وہ بد نصیب ہوں جو ہرفحش اور خبیث بات کو دیکھ کر ایسے لذت اٹھاتا تھا جیسےفحش کلامی سے لذت اٹھائی جاتی ہے۔(1)
فحش گوئی اگرانسانی شکل میں ہوتی تو........!
آقائے دوجہاں،سرور ذیشاںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدَتُناعائشہ صِدِّیْقَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ارشاد فرمایا: اے عائشہ!فحش گوئی اگر انسانی شکل میں ہوتی تو برے آدمی کی صورت میں ہوتی۔(2)
مُنافَقَت کے دو شعبے:
حضورنبیّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: بدکلامی اوربیان مُنافَقَت کے شعبوں میں سے دو شعبے ہیں۔(3)
بیان سے کیا مرادہے؟
ممکن ہے کہ حدیثِ پاک میں ”بیان “سے مراد ان باتوں کو ظاہر کرنا ہو جنہیں ظاہر کرنا جا ئز نہ ہو، یہ بھی اِحتمال ہے کہ اس سے مرادیہ ہو کہ فصاحت وبلاغت کے اظہار میں اتنا مُبالَغہ کیا جائے کہ تکلُّف کی حد کو پہنچ جائےاوراس بات کا بھی امکان ہے کہ اس سے مقصودامور دینیہ اور صِفاتِ باری تعالیٰ کی تفصیل ہو کیو نکہ اسےلوگوں کے سامنے مختصراً بیان کرنا مبالغہ کے ساتھ بیان کرنے سے بہتر ہے اس لئے کہ بسا اوقات زیادہ تفصیل کرنے سےاس میں شکوک و شُبہات اور وَساوِس پیدا ہو جاتے ہیں تو جب مختصراً بیان ہوگا تو قلوب اس کو جلد قبول کر لیں گےاور پریشان نہیں ہوں گے اور چونکہ حدیث پاک میں ”بیان “کو بد کلامی کے ساتھ ذکر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت ،۷/ ۱۳۲، حدیث :۱۸۷
2… موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت ،۷/ ۲۰۷، حدیث :۳۳۱
3… موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت ،۷/ ۲۰۹، حدیث :۳۳۵