وَاتَّقُوا اللہَ ؕ وَیُعَلِّمُکُمُ اللہُ ؕ (پ۳،البقرة:۲۸۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے۔
دل کی سیاہی سے مراد:
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب گناہوں کے سبب دل پر مہر کردی جائے تو دل حق جاننے اور دین پر چلنے سے اندھا ہوجاتا ہے، اُخروِی معاملات سے صرف نظر کرکےدنیاوی معاملات کو اَہَمِّیَّت دیتا ہے اور اس کی تمام تر جستجو دنیا بہتر بنانے کے لئے ہوتی ہے، آخرت کی بات یا اس کے خطرات ذکر کے جائیں تو ایک کان میں پڑتے ہی دوسرے کان سے نکل جاتے ہیں دل پر کچھ اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے توبہ کی توفیق ملتی ہے۔ ایسا شخص ان لوگوں کی طرح ہوجاتا ہے جو آخرت سے آس توڑ بیٹھے ہیں جیسے کافر آس توڑ بیٹھے قبر والوں سے۔ گناہوں کے سبب دل سیاہ ہوجانے کا یہی معنی ہے(کہ وہ حق جاننے اوردین پر چلنے سے اندھاہوجاتا ہے) جیساکہ قرآن وحدیث سے ظاہر ہے۔
دل پر مُہرکردینے سے مراد:
حضرت سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگادیا جاتا ہے اگر وہ اس گناہ سے باز آجائے اور توبہ کرلے تو وہ سیاہی صاف کردی جاتی ہے لیکن اگر دوبارہ گناہ کرے تو سیاہی پہلے سے زیادہ کردی جاتی ہے یوں آہستہ آہستہ سیاہی دل کو ڈھانپ لیتی ہے دل پر مہر کردینے سے یہی مراد ہے۔
مومن و کافر کادل:
حضورنبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’قَلْبُ الْمُؤْمِنِ اَجْرَدُ فِیْہِ سِرَاجٌ یُّزْھِرُوَقَلْبُ الْکَافِرِ اَسْوَدُ مَنْکُوْسٌ یعنی مومن کا دل صاف ہےاس میں چراغ روشن ہوتا ہے جبکہ کافر کا دل سیاہ اور اوندھا ہوتا ہے۔‘‘(1)
خواہشات کی مخالفت کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طاعت کرنا دل کو صاف کرتا ہے جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…قوت القلوب،الفصل الثلاثون،ذکرتفصيل الخواطرلاهل القلوب...الخ،۱/ ۲۰۰ المسندللامام احمدبن حنبل،مسندابی سعيدالخدری،۴/ ۳۶، حديث:۱۱۱۲۹بتغير