Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
368 - 1245
	گویا آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے کی پُرتکلُّف اور بناوٹی تمہید ی گفتگو کو ناپسند فرمایااور یہ بھی زبان کی آفات میں سے ہے۔اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو بتکلُّف مُسَجَّع و مُـقَفّٰی کلام کرے ،اسی طرح بتکلف ایسی فصاحت کا اظہار بھی اس میں شامل ہے جو عادت کی حد سے خارج ہو ۔
مُـقَفّٰی کلام کرنے کی مذمت:
	یوں ہی گفتگو میں بتکلُّف قافِیہ باندھنا بھی اسی زُمْرے میں آتا ہے۔چنانچہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جَنِیْن(یعنی پیٹ کے بچے)کو ضائع کرنے کےعوض ایک غلام آزاد کرنے کا حکم دیا تو مجرم کی قوم کے ایک فرد نے کہا: کَیْفَ نَدِىَ مَنْ لاَ طَعِمَ وَلاَ شَرِبَ وَلاَ صَاحَ وَلاَ اسْتَهَلَّ وَمِثْلُ  ذٰلِكَ  بَطَلَیعنی ہم اس کی دیت کیسے دیں جس نے نہ کھایا نہ پیا،نہ بولا نہ رویاایسے  بچے کی دیت تو معاف ہوتی ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے(ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے)ارشاد فرمایا:کیا عَرَب کےدیہاتیوں کی طرح مُقَفّٰی  کلام کرتے ہو؟(1)
کلام کا مقصود غرض کو سمجھانا ہے:
	رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مُقَفّٰی کلام کواس لئے ناپسند فرمایا کہ اس میں تکلف اور بناوٹ کا اثر واضح تھا،لہٰذا آدمی کو چاہئے کہ ہر چیز میں مقصود پر اکتفا کرےاور کلام کا مقصود غرض کو سمجھانا ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ تصنع ہےاورقابل مذمت ہےالبتہ خطابت میں مبالغہ اور ناقابل فہم گفتگو سے بچتے ہوئے خوبصورت الفاظ سے وعظ و نصیحت کرنااس میں داخل نہیں ہےکیو نکہ خطابت سے مقصوددلوں کو نیکیوں کی طرف مائل کرنا اور رغبت دلانااورانہیں خواہشات سے روکنااوردلوں میں رضائے الٰہی کے حصول کی جگہ بنانا ہےاورالفاظ کی خوبصورتی اس میں مُؤ َثِّر ہو تی ہے،لہٰذااس میں مضائقہ نہیں۔رہے وہ محاورات جو حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ان میں قافیہ باندھنا اور تکلف کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ ان میں مشغول ہونا قابل مذمت ہے اور ان پر ابھارنے والی چیز ،ریاکاری ،فصاحت کا اظہار اور دوسروں پر فَوقیَّت وبَرْتَرِی پانے  کےذریعےممتاز و نمایاں ہونا ہے۔ان میں سے ہر ایک مذموم ہے ،شریعت انہیں نا پسند کرتی ہے اور ان سے روکتی ہے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم، کتاب القسامة، باب دیة الجنین...الخ ،ص۹۲۴، حدیث: ۱۶۸۲