Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
367 - 1245
احتیاط کئے بہت زیادہ کلام  کرنے والےہوں گے۔(1)
امت کے شریر لوگ:
	خاتون جنت حضرت سَیِّدَتُنا فاطمہ زَہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  بیان کرتی ہیں کہ رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میری امت کے شریر لوگ وہ ہیں جو نعمتوں میں پرورش پاتے ہیں، اَنواع واَقسام کے کھانے کھاتے ہیں، طرح طرح کے لباس پہنتے ہیں اور بتکلُّف فصیح کلام کرتے ہیں۔(2)
گہری باتیں  کرنے والے ہلاک ہو گئے:
	نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:گہری باتیں کرنے والے ہلاک ہوگئے۔ (3)آپ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:بہت زیادہ فصیح گفتگو  کرنے والے(جھوٹ اور باطل گفتگو کرنے کےسبب)شیطانی گفتگو کرنے والے ہیں ۔
لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا…!
	عمر وبن سعداپنے والدحضرت سیِّدُنا سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں اپنی حاجت کاسوال  کرنےکے لئے آیااورحاجت کوبیان کرنے سے پہلے اس نے کچھ کلام کیا تو حضرت سیِّدُنا سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:تم اپنی حاجت سے اتنا دور تو نہیں ہوتے تھے جتنے آج ہو(یعنی پہلے تو تمہیدیں نہیں باندھتے تھے آج کیا ہوا ہے)میں نےرسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہےکہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جس میں لوگ کلام کرتے ہوئےاپنی زبان کو ایسے گھمائیں گے جیسے گائے گھاس کھانے میں اپنی زبان گھماتی ہے(یعنی خوب فصاحت بھری گفتگو کریں گے)۔ (4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر،۲۲/ ۲۲۱، حدیث :۵۸۸
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت،۷/ ۱۰۸ ،حدیث :۱۵۰
3… مسلم، کتاب العلم، باب ھلک المتنطعون،ص۱۴۳۴، حدیث : ۲۶۷۰
4…المسندللامام احمد بن حنبل، مسند ابی اسحاق سعد بن ابی وقاص،۱/ ۳۸۹ ، حدیث:۱۵۹۷