Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
366 - 1245
آسان نیکی اورنیکوکاروں جیسا ثواب:
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظمَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:نیکی آسان کام ہے ، خندہ پیشانی سے پیش آنا اور نرم گفتگو کرنا۔
	ایک دانا کا قول ہے: نرم گفتگو سینوں میں موجود چھپے ہوئے کینوں کو دھو دیتی ہے ۔
	ایک دانشورکا قول ہے: ہر وہ کلام جو تمہارے رب کو ناراض نہ کرے اور اس کے ذریعے تمہارا ہم نشین راضی رہے تو ایسے کلام میں بخل نہ کرو شاید اس کے عوض تمہیں نیکو کاروں جیسا ثواب عطا کیا جائے۔
	یہ تمام گفتگواچھی بات کہنے کی فضیلت کے متعلق تھی اور خُصُومَت ،مِراء ،جِدال اوربحث ومُباحَثہ اس کے متضاد اور برعکس ہیں کیو نکہ یہ ایسے کلام ہیں جو ناپسندیدہ، وَحشت میں ڈالنے والے،قلب کو اَذِیَّت پہنچانے والے، زندگی کو تنگ کرنے والے، غُصّہ کو بھڑکانے والے اور کینہ پیدا کرنے والے ہیں۔ ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے اس کے احسان اور کرم سے حُسنِ توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
آفت نمبر6:			مُسَجَّع و مُـقَفّٰی مشکل کلام کرنا
	فَصاحَت سے بھر پور پُرتکلُّف مسجَّع و مقفّٰی اورمشکل  کلام کرنا اور تمہیدات، مُقَدَّمات اور ان چیزوں کے ساتھ اس میں بناوٹ اختیار کرنا جو بتکلُّف فصیح کلام کرنےوالوں اورخطابت کا دعوی کرنے والوں کے مابین رائج ہیں۔ ان میں سے ہر ایک قابل مذمت تصنع اورنا پسندیدہ تکلف سے تعلق رکھتا ہے۔
پرہیز گار تکلُّف سے دور ہوتے ہیں:
	اس تکلف کے بارے میں دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: میں اور میری امت کے پرہیز گارلوگ تکلف سے دور ہیں۔(1)
	اورارشاد فرمایا:(بروز قیامت)تم میں میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور میری مجلس سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو بتکلف  بہت زیادہ بولنے والے ، خوب فصاحت بھری گفتگوکرنے والےاوربغیر 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ  مدینہ دمشق، الرقم: ۳۹۱۱، عبدالرحمن بن عوف،۳۵/ ۲۷۸