نہ کھولا جائےاور ضرورت کے وقت بھی زبان کو بد کلامی اور دل کو کینے سے محفوظ رکھنا چاہئے تاکہ خُصومت کے برے نتائج سے بچا جاسکے اور یہ بہت مشکل ہے ۔ جوخُصومت میں حد ضرورت پر اکتفا کرتا ہے وہ گناہ سے بچ جاتا ہے اور اس کی خصومت قا بل مذمت نہیں ہوتی البتہ اگر کسی معاملے میں اسے خُصومت کی ضرورت نہ ہوکہ اس کے پاس وہ چیز موجود ہو جو اسےکفایت کر جائے (اس کے باوجو د وہ خصو مت میں پڑے)تو وہ اولیٰ کو ترک کر نے والا ہو گا لیکن گناہ گار نہیں ہو گا۔مگرخصومت ،مراء اور جدال کے سبب ایک چھوٹا سا نقصان ضرور سامنے آئے گا کہ انسان اچھا کلام کرنے سے محروم ہوجائے گااور جو اس کے متعلق ثواب وارد ہوا ہےاس سےبھی اُسے محروم ہونا پڑے گاکیو نکہ اچھے کلام کا کم از کم درجہ تائیدکا اظہار ہےاور طعن و اعتراض سے بڑھ کر کلام میں کوئی سختی نہیں کہ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سامنے والے کو جاہل یا جھوٹا قرار دیا جا تا ہے اور یہ اس لئے کہ جو کسی سے مجادَلہ یا مراء یاخُصومت کرے تویقیناًمد مقابل کو جاہل یا جھوٹا قرار دے گا لہٰذا اس کے سبب اس سے اچھا کلام فوت ہو جائے گا ۔
اچھی گفتگو جنت میں لے جائے گی:
نورکے پیکر،تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اچھا کلام اورکھانا کھلانا تمہیں جنت میں لے جائے گا۔(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ۱،البقرة:۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔
مجوسی کو سلام کا جواب:
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں سے جو بھی تمہیں سلام کرے اس کو سلام کا جواب دو اگرچہ وہ مجوسی ہو(2)کیو نکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الاوسط،۱/ ۴۱۶، حدیث :۱۵۲۴
2…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1197صفحات پرمشتمل کتاب’’بہارشریعت،جلدسوم، حصہ16، صفحہ461،462‘‘پر صَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینقل.........