Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
363 - 1245
کرتا بلکہ غلبہ پانے اور ایذاپہنچانے کے ارادےسے جھگڑے میں ناحق شدت کرتا ہے اور وہ شخص بھی شامل ہے جو خُصومت میں تکلیف دہ کلمات استعمال کرتا ہے حالانکہ دلیل کی تائید اور حق کے اظہار میں اس کی حاجت نہیں ہو تی اور یہ مذمت اس کو بھی شامل ہے جسے خصومت پر صرف دشمنی ابھارتی ہے تاکہ مخالف کو مغلوب اور زیر کیا جائے(حالانکہ مال کی جس مقدار کی خاطر وہ جھگڑ رہا ہو تا ہے)بعض اوقات وہ مقداراس کے نزدیک حقیر اور معمولی ہو تی ہے اورکوئی تو اس کی صراحت بھی کردیتاہے اور کہتا ہے :میرا مقصدتو محض اس سے دشمنی نکالنا اور اس کی عزت کو خاک میں ملانا ہے اور اگر میں نے اس سے یہ مال لے لیا تو ہو سکتا ہے میں اس کو کنویں میں ڈال دوں اورمجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ایسے شخص کا مقصد دشمنی ،جھگڑا اور ہٹ دھرمی  ہوتا ہےاور یہ صورت بہت زیادہ قابِل مَذمَّت ہے ۔
خُصُومَت سے دل میں کینہ پیدا ہوتا ہے:
	رہا وہ مظلوم جو شرعی طریقے پر اپنی دلیل کی تائیدکرے، مَدِّمُقابِل کو رسوا نہ کرے اور نہ حد سے بڑھے، حاجت کی مقدار سے زیادہ نہ جھگڑے،نہ دشمنی نکالےاورنہ  ایذا پہنچانے کاارادہ کرے،تو اس کا یہ فعل حرام نہیں ہے لیکن جس حد تک ہو سکے اس کو چھوڑنا بہتر ہے کیو نکہ لڑائی جھگڑے میں زبان کو قابو میں رکھنا مشکل ہو تا ہے۔ اس سے دل میں کینہ پیدا ہوتا ہے اور غضب کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور جب غصہ بھڑک اٹھتاہے تو جس بات میں جھگڑا ہوتا ہے وہ ذہن سے نکل جاتی ہے اور جھگڑا کرنے والوں کے مابین کینہ باقی رہ جاتا ہے حتّٰی کہ ہر ایک دوسرے کے غم پر خوش اور دوسرے کی خوشی پر غمگین ہو جاتا ہے اوردوسرے کی بے عزتی کے لئے زبان کو آزاد چھوڑدیتا ہے۔لہذا جو خصومت کی ابتدا کرتا ہے وہ ان ممنوعہ امور میں پڑ جاتا ہے اور سب سے کم بات جو اس میں پائی جاتی ہے وہ اس کے دل کا پریشان و بے چین ہونا ہےیہاں تک کہ وہ نماز میں بھی اپنے مخالف پر غلبہ پانے میں مشغول رہتا ہے یوں  معاملہ ضرورت کی حدتک باقی نہیں رہتا ۔
خُصومت ہر شر کی بنیادہے:
	خُصومت ہر شر کی بنیادہےاور مراء اور جدال کا بھی یہی معا ملہ ہے، لہٰذا بغیر ضرورت کے اس کا دروازہ