وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: جو شخص بغیر علم کے خُصومت میں پڑتا ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی میں رہتاہے یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے۔(1)
ایک بُزرگ فرماتے ہیں:خصومت سے بچو کہ یہ دین کوتباہ کر دیتی ہے۔منقو ل ہے کہ متقی و پرہیز گار شخص دین میں کبھی بھی جھگڑا نہیں کرتا۔
حضرت سیِّدُناسالم بن قُتَیبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرت بشیر بن عبیداللہ بن ابوبَکْرَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے پاس سے گزرے توارشاد فرمایا: آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ میں نے عرض کی: ایک جھگڑے کے سبب جو میرےاور میرےچچا زاد بھائی کے درمیان چل رہا ہے۔انہوں نے کہا: آپ کے والد کا مجھ پر کچھ احسان ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس کا بدلہ چکا دوں ۔(پھر کہا:)میں نے خُصُومَت سے بڑھ کر کوئی چیزدین کولے جانے والی،مُرَوَّت کو کم کرنے والی،لذت کو ختم کرنے والی اور دل کو مشغول کرنے والی نہیں دیکھی۔یہ سن کرمیں جانے کے لئے کھڑا ہوا تومیرے مُخالِف نے کہا:کیا ہوا؟میں نے کہا:میں تم سے جھگڑا نہیں کروں گا۔اس نے کہا:تو تم نے جان لیا ہے کہ میں حق پر ہوں ۔میں نے کہا :نہیں۔لیکن میں خود کو اس سے بچانا چاہتا ہوں۔اس نے کہا :میں تم سے کچھ بھی نہیں مانگتا ،یہ تمہاری ہے۔
ایک سوال اور اس کاجواب:
اگر تم یہ کہو کہ جب آدمی کاکسی پرکوئی حق نکلتا ہو تواس کو حاصل کرنے کے لئے یاجب ظالم اس پر ظلم کرے تواس حق کی حفاظت کے لئے لازمی طور پر اسےجھگڑا کرناپڑے گا تو ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا اورتم اس جھگڑےکی کیسے مَذمَّت کررہے ہو؟
جواب:جان لو کہ یہ مذمت اس کو شامل ہے جو باطل کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے اور اس کو شامل ہے جو بغیر علم کے جھگڑا کرتا ہے جیسے قاضی کا وکیل کہ وہ اس بات کو جاننے سے پہلے کہ حق کس طرف ہے وہ خُصومت (یعنی جھگڑے) کی وکالت کرتا ہے خواہ وہ کسی بھی جانب سے ہو اور یوں وہ بغیرعلم کے جھگڑے میں پڑتا ہےاوراس مذمت میں وہ شخص بھی شامل ہے جو اپنے حق کو حاصل کرنے میں بَقَدْرِحاجت پر اِکتفا نہیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت،۷/ ۱۱۱، حدیث :۱۵۳