تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس بات کو سات مرتبہ دہرایا کرتےتھے ۔
جو شخص بھی مدت سے مجادَلَہ کا عادی ہواور اس پرلوگ اس کی تعریف بھی کرتے ہوں اور اسےوہ اپنی عزت و مقبولیت سمجھتاہوتواس کے اندر ہلاکت میں ڈالنے والی یہ چیزیں مضبوط ہوجاتی ہیں اور وہ اس وقت تک ان مُہْلِکات سے چھٹکارا نہیں پا سکتاجب تک اس پر غضب ،تکبُّر ،رِیا ،حُبِّ جاہ اور علم وفضل پر فخر کا غلبہ ہوتا ہے حالانکہ یہ باتیں اگر الگ الگ پائی جائیں پھر بھی مجاہدے میں دشواری ہو تی ہے تو جب یہ تمام ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو مجاہدہ کیو نکر ہو سکے گا۔
آفت نمبر5: خُصومت
مِراء، جِدال اورخُصُومت میں فَرْق:
خُصومت بھی قابل مذمت ہےاور یہ جدال اور مِراء کے علاوہ ہے ۔مِراء دوسرےکے کلام میں عیب ظاہر کرکے اعتراض کرنےکو کہتے ہیں لیکن اس میں مقصودصرف دوسرے کی تحقیر اور ذہانت وفطانت میں اپنی برتری کا اظہار ہوتا ہےاور جدال سے مراد وہ مراء(یعنی جھگڑا)ہےجو مذاہب کے اظہار اور ان کی اَبحاث کے متعلق ہو تا ہے اورخُصومت حق یامال حاصل کرنے کے لئے جھگڑنا ہےاور یہ کبھی خود ہی شروع کیا جاتا ہے اور کبھی اعتراض کی صورت میں ہوتا ہے جبکہ مراء صرف سابقہ کلام پر اعتراض کی صورت میں ہوتا ہے۔
سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص:
اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ میرے سرتاج،صاحِبِ معراجصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو بڑا جھگڑالوہے۔(1)
رب تعالیٰ کی ناراضی کا سبب:
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ نبی پاک،صاحب لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری ، کتاب الاحکام، باب الأَ لَدّالخصم ...الخ ،۴/ ۴۶۹، حدیث :۷۱۸۸