عَلَیْہ سے ارشاد فرمایا:آپ نے گوشہ نشینی کیوں اختیارکی ؟انہوں نے عرض کی:میں جِدال (یعنی جھگڑے)کو چھوڑدینے کے ذریعے اپنے نفس سے مجاہَدہ کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا: مجالس میں حاضر ہو ا کرو اور جو کہا جائے اسے سنا کرواورکچھ بولا نہ کرو ۔انہوں نے عرض کی :میں نے اس طرح کیا ہےاور میں نے اپنے اوپر اس سے زیادہ سخت مجاہدہ نہیں دیکھا ۔
بات بھی ایسے ہی ہے جیسے انہوں نے ارشاد فرمائی کیو نکہ جو دوسرےسےخطا کو سنے اور خطا کو ظاہر کرنے پر قادر بھی ہو تو اس وقت اس کے لئے صبر کرنا بہت مشکل ہو جا تا ہے اور اسی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب،دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:جو حق پر ہونے کے باوجودمِراء(یعنی جھگڑے) کو ترک کردے اللہعَزَّ وَجَلَّ ا س کیلئے جنت کے اعلیٰ درجے میں گھر بنائے گا۔‘‘(1) کیونکہ یہ نَفْس پر گِراں ہوتا ہے اوراس کا غلبہ اکثر مذاہب و عقائد میں ہو تا ہے اس لئے کہ مراءانسانی فطرت میں شامل ہے اور جب وہ یہ بھی گمان کرے کہ اس پر اسے ثواب ملے گا تو اس کی حرص اور بھی بڑھ جاتی ہے اور اسے شریعت وفطرت کا تعاون حاصل ہو جا تا ہے حالانکہ یہ محض خطا ہےبلکہ انسان کو چاہئےکہ وہ اپنی زبان کو اہْلِ قِبْلَہ سے روکے۔
نصیحت کب کارآمدہوتی ہے؟
جب کوئی کسی بدعتی کو دیکھےتو تنہائی میں اسے نرمی سے سمجھائے نہ کہ جدال(یعنی جھگڑے)کے طریقے پر کیونکہ جدال سے اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ”یہ حقیقت کو چھپانے کی ایک چال ہے اوریہ ایسا طریقہ ہے کہ میرے نظریات والے مناظرین بھی اگر چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔“تو جِدال کی وجہ سے بدعت اس کے دل میں مزید پختہ اور مضبوط ہو جائے گی،لہٰذاجب معلوم ہو کہ نصیحت اسے فائدہ نہیں دے گی تو سمجھانے والے کو چاہئے کہ اسے چھوڑدے اور اپنی فکر کرے۔
سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر رحم فرمائے جو اہل قبلہ سے اپنی زبان کو روکے البتہ جو اچھی بات کہہ سکے وہ کہے۔(2)(اس حدیث کے راوی)حضرت سیِّدُنا ہِشام بن عُرْوَہ رَحْمَۃُ اللہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الاوسط،۴/ ۹۵، حدیث : ۵۳۲۸
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت،۷/ ۱۰۱، حدیث : ۱۳۷