اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کے دل میں اس کے لئے ایک واعظ مقرر فرمادیتا ہے۔“(1)
مزید ارشاد فرمایا: جس کے دل میں واعظ موجود ہو اس کی حفاظت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے۔(2)
ایسے دل ہی ہروقت بارگاہ الٰہی کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾ (پ۱۳،الرعد:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
بہرحال بری صفات دل کے آئینہ کے لئے اس سیاہ دھویں کی مانند ہے جو مسلسل بڑھتاجارہا ہے، روز بروز اس کی سیاہی اور تاریکی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، ایک وقت آتا ہے کہ اسے رب تعالیٰ کی بارگاہ سے بہت دور کردیا جاتا ہے، یہ دل زنگ آلود ہوجاتا اور اس پر مہر لگادی جاتی ہے۔ اس دل کے متعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾ (پ۳۰،المطففين:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان: کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے۔
مزید ارشاد فرماتا ہے:
اَنۡ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا یَسْمَعُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾ (پ۹،الاعراف:۱۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آفت پہنچائیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے۔
اس آیت مبارکہ میں ”نہ سننے“ کا سبب ”کثرت گناہ اور دل پر مہر کر دیا جانا“ بیان کیا گیا ہے جیساکہ دیگر آیات میں ”سننے“ کا ذکر ”تقوٰی“ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اتَّقُوا اللہَ وَاسْمَعُوۡا ؕ (پ۷،المآئدة:۱۰۸) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو۔
ایک مقام پر ارشادہوتا ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزهدللامام احمدبن حنبل،زهدمحمدبن سيرين،ص۳۱۰، حديث:۱۷۶۸
2…قوت القلوب،الفصل الثلاثون ذکرتفصيل الخواطرلاهل القلوب...الخ،۱/ ۲۰۳