چڑھائی کرنا ہے ۔یہ دونوں نفس کی ایسی با طنی خواہشات ہیں جو اس کی تقویت کا باعث ہیں ۔اپنی فضیلت کااظہار خود کو پاک صاف بتانے کے قبیل سے ہےاوریہ چیز بندے میں موجود بلندی اور بڑائی کی خواہش سے جنم لیتی ہےحالانکہ یہ بلندی و بڑائی رَبُو بِیّت کی صفات میں سے ہیں ۔جہاں تک دوسرے کی تنقیص کا تعلُّق ہے تو یہ صِفَتِ درندگی کے سبَب ہوتا ہے کیونکہ یہ صفت دوسرے کی آبرو ریزی ،اسے کمزور کرنے، اسے اَذِیَّت پہنچانے کا تقاضا کرتی ہےاور یہ دونوں صفتیں(یعنی اپنی فضیلت کا اظہار اور دوسرے کی تنقیص)مذموم اور ہلاک کرنے والی ہیں اوران دونوں کی قوّت کا باعِث صرف مِراءاورجِدال ہےتوجو شخص مراء اور جدال میں لگا رہتا ہے وہ ان مُہْلِک صِفات کو تَقْوِیَت پہنچاتا ہےاور یہ مکرو ہ سےآگے بڑھناہے بلکہ گناہ ہے جبکہ اس میں دوسروں کو اَذِیَّت پہنچا نا بھی ہوکیونکہ مراءدوسرے کو ایذا اور غصہ دلائے بغیر اوراسے اس بات پر ابھارے بغیر نہیں ہوسکتا کہ وہ پلٹ کر اپنے کلام کی تائید میں جس قدر اس کے لئے ممکن ہو، دلائل لائے خواہ وہ حق ہوں یا باطل اورمخالف کے کلام میں جو خرابی اس کی سمجھ میں آئےاس کے ذریعے اس پر اعتراض کرے ۔چنانچہ دو جھگڑا کرنے والوں کے درمیان اس طرح جنگ چھڑ جاتی ہے جیسے دو کتے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔ان دونوں میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ دوسرے کو لاجواب کرنےاوراس کا منہ بند کرنے کے لئے زیادہ غالب اور مضبوط دلیل کے ساتھ اس کی پکڑ کرے۔
مجادلہ کا علاج:
اس کا علاج یہ ہے کہ وہ اپنے اندر سے تکبُّر کو دور کردے جو اسے اپنی فضیلت کے اظہار پر ابھا رتا ہے اوراس صفت درندگی کو ختم کردے جواسےدوسرے کی تنقیص پر اکساتی ہے جیسا کہ عنقریب اس کے متعلق ”تکبر اور عُجب کی مَذمَّت “اور”غضب کی مذمت “ کے بیان میں آئے گا ،کیو نکہ ہر بیماری کا علاج اس کے سبب کو دور کرنے سے ہو تا ہےاورمِراء اورجِدال کا سبب وہ ہے جسے ہم ذکر کر چکے۔پھر مُجادَلہ پر ہمیشگی اسے عادت اور فطرت بنا دیتی ہے حتّٰی کہ یہ نفس پر غالب آجاتا ہے اورخود کو اس سے روکنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
گوشہ نشینی کی وجہ:
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا اِمام اَعظم اَبو حنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےحضرت سیِّدُناداؤد طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی