الفاظ میں عیب ظاہر کرکےاعتراض کرنے کی صورت یہ ہے کہ نَحْوِی ،لُغَوِی اورعَرَبی اندازِتَکَلُّم کے اعتبار سے اس کی غَلَطِی نکالی جائےیامُقَدَّم کو مُؤَخَّر اور مؤخر کو مقدم کرنے کے سبب کلام کے نظم و ترتیب بگڑنے کی وجہ سے اس کی غلطی نکالی جائے ۔ کلام میں اس طرح کی غَلَطِیاں کبھی توعلم کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں یا زبان کی لغزش کے سبب۔ اَلْغَرَض غَلَطی کسی بھی سبب سے ہواس پر اعتراض کا جواز نہیں۔
معنیٰ میں عیب ظاہر کرکے اعتراض کی صورت یہ ہے کہ مثلاًکوئی کہے :بات ویسے نہیں ہے جیسے تم کہہ رہےہواورتم نے اس میں فلاں فلاں وجہ سےغلطی کی ہے ۔
قصد کی صورت یہ ہےکہ مثلاً: کوئی کہے :یہ کلام حق ہے لیکن اس سے تمہارامقصود حق نہیں ہےبلکہ اس میں تمہاری کوئی غرض ہے۔یا پھراس سے ملتی جلتی کوئی بات کہے۔
اگر یہ معاملہ کسی علمی مسئلہ میں درپیش ہو تو بعض اوقات اسے جدل کا نام دیا جا تا ہے اور یہ بھی قابل مذمت ہے،لہٰذا ان مَواقِع پر خاموش رہنا واجِب ہے ۔البتہ فائدہ حاصل کرنے کےلئے سوال کرناجبکہ دل میں بغض و عناد اوردوسرے پراعتراض کرنا نہ ہویانرمی سے آگاہ کرنامقصود ہو طنز نہ ہو تو اس میں مضائقہ نہیں۔
مُجادَلہ کی تعریف:
مجادلہ(یاجِدال) سے مراد یہ ہے کہ دوسرے کے کلام میں اعتراض کرکے اس کی اہمیت گھٹانے، اسے عاجز و بے بس کرنےاور لاجواب وساکت کرنے کاارادہ کرنااور اسے کم علم اور جاہل قرار دینا۔
مجادَلہ کی علامت اور اس سے بچنے کا طریقہ:
مجادلہ کی علامت یہ ہےکہ اس طریقے کو چھوڑ کر دوسرے طریقےسے اسےحق بات بتاناناپسندہو بلکہ اسے یہ پسند ہو کہ وہ اس کی خطا کو ظاہر کرے تا کہ اس طریقے پر وہ اپنی فضیلت اور دوسرے کی خامی کوواضح کرے۔اس سے نجات کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ ہر اس بات سے خاموشی اختیار کرے جس کو نہ کہنے سے وہ گناہ گار نہ ہو۔
مجادلہ کا سبب:
اس کا سبب علم وفضل کے اظہار کے ذریعے اپنی برتری جتا نااوردوسرے کی خامی کو ظاہر کرکے اس پر