جھگڑے کا کفّارہ:
سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:ہر جھگڑےکا کفارہ دو رکعتیں ہیں۔ (1)
تین باتوں کے لئے علم نہ سیکھو:
﴿10﴾… امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشادفرمایا:تین باتوں کے لئے علم حاصل نہ کرو(۱)…جھگڑا کرنےکے لئے(۲)…فخر کرنے کے لئے (۳)…دکھاوے کے لئےاور تین باتوں کی وجہ سے علم کو نہ چھوڑو(۱)…اس کی طلب میں حیا کی وجہ سے(۲)…اس سے بے رغبتی کی وجہ سے اور(۳)…جَہالت پر راضی رہنے کی وجہ سے۔
سیِّدُنا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کے اَقوال:
حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:جو زیادہ جھوٹ بولتا ہے وہ بے رونق ہوجاتا ہے۔ جو جھگڑا کرتا ہے اس کے اندر مُرَوَّت ختم ہوجاتی ہے،جس کی فکریں زیادہ ہوتی ہیں اس کا جسم بیمار ہو جا تا ہے اور جس کے اخلاق برے ہوتے ہیں وہ خود کو تکلیف پہنچاتا ہے ۔
﴿11﴾…حضرت سیِّدُنامیمون بن مہرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے عرض کی گئی: کیا وجہ ہے کہ ناپسندیدگی کے باوجودآپ کا بھائی آپ کو نہیں چھوڑتا ؟فرمایا:کیونکہ میں نہ تو اس سے جھگڑا کرتا ہوں اور نہ ہی اس کی مُخالَفَت کرتا ہوں۔ بہرحال بحث ومُباحثہ اور جھگڑے کی مذمت میں بہت کچھ وارد ہوا ہے۔
مِراءکی تعریف:
مِراءکی تعریف یہ ہے کہ کسی شخص پر اس کے کلام میں عیب ظاہر کرکے اعتراض کیا جائےخواہ یہ اعتراض صاحِبِ کلام کے الفاظ،معنیٰ یا اس کے قصد میں ہو۔ انکار اور اعتراض کرنا چھوڑ دیا جائے تو مراء سے بھی جان چھوٹ جائے گی لہٰذا جو کلام بھی تم سنو اگر وہ حق ہو تو اس کی تصدیق کرو اور اگر وہ باطل یا جھوٹ ہو اوراس کا تعلق دینی امور سے نہ ہوتو اس سے خاموشی اختیار کرو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر،۸/ ۱۴۹، حدیث :۷۶۵۱