سے بحث نہ کرناکیو نکہ تم ان کو نہیں پہنچ سکو گےالبتہ تم پر سنت لا زم ہے(اس کے ذریعے ان سے گفتگو کرنا)۔
﴿2﴾…حضرت سیِّدُناعمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز فرماتے ہیں:جو اپنے دین کو جھگڑوں کے لئے نشانہ بناتا ہےوہ اکثر بدلتا رہتاہے۔
﴿3﴾…حضرت سیِّدُنا مسلم بن یَسارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں:جھگڑا کرنے سے بچو کیونکہ یہ عالِم کی جہالت کا وقت ہے اوراس وقت شیطان اس کی لغزش کے درپے ہوتا ہے۔
منقول ہے کہ کوئی قوم ہدایت ملنے کے بعد گمراہ نہیں ہوئی مگر جھگڑوں کے سبب۔
﴿4﴾…حضرت سیِّدُناامام مالک بن انسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جھگڑے کا دین سے کچھ تعلق نہیں ہے ۔نیز آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جھگڑا دلوں کو سخت کردیتا ہے اور کینہ پیدا کرتاہے۔
﴿5﴾…حضرت سیِّدُنالقمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے کو فرمایا:علما سے مت جھگڑنا ورنہ ان کے دلوں میں تمہارے لئے نفرت پیدا ہو جا ئے گی۔
﴿6﴾…حضرت سیِّدُنابلال بن سعدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدفرماتے ہیں:جب تم کسی شخص کوبحث کرنے والا،جھگڑا کرنے والااور اپنی رائے کو پسند کرنے والا دیکھو تو جان لو کہ وہ مکمل خسارے میں ہے۔
﴿7﴾…حضرت سیِّدُناسُفْیان ثَور ی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: اگر میں اپنے بھائی سے انار کے متعلق جھگڑا کروں، وہ کہے کہ میٹھا ہے اور میں کہوں کہ کھٹا ہے تو وہ ضرورمجھے بادشاہ کے پاس لے جائے گا۔
آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ جس سے چاہو خالص دوستی اور تعلق رکھ لو پھر جھگڑے کے ذریعے ایک مرتبہ اسے غصہ دلاؤتو وہ تمہیں ایسی آفت ومصیبت میں پھینک دے گا جو تمہیں مَعِیْشَت(یعنی گُزر بَسَر کے سامان)سےبھی محروم کر دے گی۔
﴿8﴾…حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں اپنےصاحب سے جھگڑا نہیں کرتاکیونکہ یا تو میں اس کو جھٹلاؤں گا یا غصہ دلاؤں گا۔
﴿9﴾…حضرت سیِّدُنا ابودَرْداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:تمہارے گناہ گار ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑا کرتے رہو۔