Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
354 - 1245
﴿1﴾…
وَ کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الْخَآئِضِیۡنَ ۙ﴿۴۵﴾ (پ۲۹،المدثر:۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بے ہودہ فکر والوں کے ساتھ بے ہودہ فکریں کرتے تھے۔
﴿2﴾…
فَلَا تَقْعُدُوۡا مَعَہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖۤ ۫ۖ اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُہُمْ ؕ(پ۵،النساء:۱۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان: تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوںورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو ۔
	حضرت سیِّدُناسلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں:بروزِقیامت ان لوگوں کے گناہ زیادہ ہوں گے جن کی اکثر باتیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی نافرمانی میں ہوں گی ۔
	حضرت سیِّدُناامام اِبْنِ سِیْرِیْنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْنفرماتے ہیں:انصار میں سے ایک شخص لوگوں کی مجلس سے گزرتا توکہتا :وضو کرو کیو نکہ تمہاری بعض گفتگو حَدَثْ(یعنی وضوتوڑنے والی شے)سے زیادہ بری ہوتی ہیں۔
بدعات اور مذاہب فاسدہ کو بیان کرنا باطل میں مشغول ہو نا ہے:
	یہ باطل میں مشغول ہو نے سے متعلق گفتگو تھی جبکہ  غیبت ،چُغْلی اور فُحْش کلامی وغیرہ  جن کا بیان آگے آئے گاان میں مشغول ہونا اس کے علاوہ ہے۔ بلکہ یہ ان ممنوعات میں مشغول ہونا ہواجو ہو چکیں یا پھر کسی دینی حاجت کے بغیر ان تک پہنچنے کی لئے فکر کرنایہ تمام باطل ہے  یونہی بدعات اور مذاہِبِ فاسِدہ کوبیان کرنے میں اورصحابہ کے مابین جنگوں کو اس طورپر بیان کرنے میں مشغول ہونا کہ بعض صحابۂ کرام پر طَعْن کا شبہ ہو،یہ بھی باطل میں مشغولیت کے اندرداخل ہے ۔ان میں سے ہر ایک باطل ہے اور ان میں مشغول ہونا باطل میں مشغول ہو نا ہے ۔ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنے لُطْف و کَرَم سے بہترین مدد فرمائے۔
آفت نمبر4:					مِراء وجِدال
	اس سے بھی منع کیا گیا ہے۔چنانچہ ،
مِراء وجِدال کے متعلق سات فرامین مصطفٰے:
﴿1﴾…اپنے مسلمان بھائی سے جھگڑا نہ کرو اور نہ  اس سےایسامذاق کرو(جس سے اسے اذیت پہنچے)اور اس