Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
353 - 1245
ایک کَلِمہ کے سبَب ناراضی:
	حضرت سیِّدُنا بلال بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  بیان کرتے ہیں کہ نبیوں کے سلطان ،سَروَرِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ایک شخص اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ    کی رِضا پر مَبْنِی ایک ایسا کلمہ کہتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان بھی نہیں ہو تا کہ یہ اسے اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی رِضا تک پہنچا دے گا لیکن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اس کے سبب قیامت تک اپنی رضا لکھ دیتا ہے اور ایک شخصاللہ عَزَّ  وَجَلَّکو نا راض کرنے والاکلمہ کہتا ہےاور اسے یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ یہ اسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضی تک پہنچا دے گا مگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی وجہ سے اس کے لئے قیامت تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے ۔(1)
	حضرت سیِّدُناعَلْقَمَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں:کتنے ہی کلام ایسے ہیں جن سےمجھے حضرت بلال بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حدیث نے روک دیا۔
	سرکارِمدینہ ،فیض گنجینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:آدمی اپنے ہم نشینوں کو ہنسانے کے لئے ایک کلمہ کہتا ہےلیکن اس کے سبب ثُرَیّا (ستارے کے فاصلے )سے بھی دور جا گرتاہے۔(2)
	حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:آدمی ایک کلمہ کہتا ہے جس کو کہنے میں وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن اس کی وجہ سے جَہَنَّم میں جا گرتا ہے، کوئی شخص ایک کلمہ کہتا ہے اوراسے معمولی سمجھتا ہےلیکن اس کے سبباللہ عَزَّ  وَجَلَّ  جنت میں اس کے درجات بلند فرمادیتا ہے ۔
بڑا خطاکار:
	مصطفےٰ جانِ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:بروزِقیامت لوگوں میں بڑا خطا کار وہ ہوگا جو باطل میں زیادہ مشغول رہا ہو گا ۔(3) 
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ان دو فرامين میں بھی اسی جانب اشارہ ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی ، کتاب الزھد، باب فی قلةالکلام ،۴/ ۱۴۳، حدیث : ۲۳۲۶
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت ،۷/ ۶۹، حدیث :۷۱
3…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت ،۷/ ۷۰،حدیث : ۷۴