Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
352 - 1245
گونگی ہو تی تو بہتر تھا:
	حضرت سیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک زبان دراز عورت کو دیکھ کر فرمایا:اگر یہ گونگی ہوتی تو اس کے لئے بہتر تھا۔
ہلاک کرنے والی چیزیں:
	حضرت سیِّدُناابراہیمنَخَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:لوگوں کو دو باتیں ہلاک کرتی ہیں: زائدمال اور فضول کلام۔
	تو یہ فضول کلام اور زیادہ بو لنے کی مذمت تھی اوراس پر ابھارنے والا سبب اور اس کا علاج وہی ہے جو بےفائدہ گفتگوکی آفت میں گزر چکا۔
آفت نمبر3:				باطل میں مشغول ہونا
	باطل میں مشغول ہونایہ ہے کہ گناہوں کےبارے میں گفتگو کی جائے جیسے عورتوں اورشراب اور  فاسقوں کی مجالس کے حالات بیا ن کرنا ، مال داروں کی عَیَّاشِیوں کا ذکر کرنااور بادشاہوں کے تکبُّر، ان کے مذموم طرزِعمل اور ان کے شرعاًناپسندیدہ اَحوال کو بیان کرنا۔ان تمام  کاموں  میں مشغول ہوناحلال نہیں بلکہ حرام ہے۔ رہابے فائدہ گفتگوکرنا یامفید بات بھی زیادہ کرناتو یہ حرام نہیں ہے البتہ اسے ترک کردینا بہتر ہے۔مگر جو بے فائدہ گفتگو کثرت سے کرے گاوہ باطل میں پڑنے سے نہیں بچ سکے گا اور اکثر لو گ باہم مل کراس لئے بیٹھتے ہیں تا کہ گفتگو کے ذریعے فرحت حاصل کریں اور ان کی گفتگو لوگوں کی غیبت سے لطف اندوز ہونے یا باطل میں پڑنےسے آگے نہیں بڑھتی (اسی کے اندر گھومتی رہتی ہے ) اور باطل کی قِسموں کو ان کے کثیر اور مختلف ہو نے کی وجہ سے شمار نہیں کیا جا سکتا لہٰذا ان سے چھٹکارا صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ دین ودنیا کی اہم اور ضروری گفتگو پر اکتفا کیا جا ئے اور اس جِنس (یعنی باطل گفتگو)میں کچھ کلمات ایسے نکل جاتے ہیں جو بو لنے والے کو ہلاک کردیتے ہیں حالانکہ وہ انہیں معمولی سمجھ رہا ہو تا ہے ۔