ہےاور جس کا مال زیادہ ہو اس کے گنا ہ بھی زیا دہ ہو تے ہیں اور جو بَداَخلاق ہو گا وہ خود کو تکلیف پہنچائے گا ۔
فضول گوئی کی مذمت:
حضرت سیِّدُناعَمْروبن دِینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں:ایک شخص نے مکی مدنی سلطانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کثیر گفتگو کی توآپ نے ارشاد فرمایا:تمہاری زبان کے آگے کتنے پردے ہیں؟ اس نےعرض کی:میرےدو ہونٹ اور دانت ہیں۔ارشاد فرمایا:کیا ان میں سے کوئی تمہیں باتوں سے نہیں روک سکتا؟(1)
ایک روایت میں ہے کہ آپ نےیہ بات اس شخص سے ارشاد فرمائی جس نے آپ کی تعریف میں طویل گفتگوکی تھی پھر آپ نے(مزید)ارشاد فرمایا :کسی شخص کو زبان کی فضول گفتگو سے بڑھ کر بری چیز نہیں دی گئی۔ (2)
حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز فرماتے ہیں:فخر و مُباہات کا خوف مجھے زیادہ کلام کرنے سے روکتاہے۔
ایک داناکا قول ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مجلس میں ہو اور اسے گفتگو کرنااچھالگے توخاموش رہے اور اگر وہ خاموشی کوپسند کرے تو کلام کرے۔
عالِم کا فتنہ:
حضرت سیِّدُنایزید بن حبیب عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالرَّقِیۡب فرماتے ہیں:عالِم کے فتنے میں سے یہ بھی ہے کہ اسے بولنا سننے سے زیادہ پسند ہوحالانکہ اس بات کے لئے کوئی دوسرا بھی موجود ہےکیو نکہ سننے میں سلامتی ہے اور بو لنے میں ریاکاری اور کمی بیشی کاخطرہ ہے۔
پاک کئے جانے کی سب سے زیادہ مستحق:
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:آدمی جن چیزوں کو پاک کرتا ہے ان میں سب زیادہ پاک کئے جانے کی حقدار اس کی زبان ہے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت ،۷/ ۷۸، حدیث : ۹۳
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت ،۷/ ۷۸، حدیث : ۹۴