Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
350 - 1245
	حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں:میں تمہیں تمہارے فضول کلام سے ڈراتا ہوں اور آدمی کے لئے اتنا کلام کا فی ہے جو اس کی ضرورت کو پو را کر دے۔
بچوں کو بہلاتے ہوئے جھوٹ بولنا:
	حضرت سیِّدُناامام مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں:گفتگو لکھی جاتی ہے حتّٰی کہ ایک شخص اپنے بیٹے کو چپ کرانے کے لئے کہتا ہے:میں تمہارے لئے فلاں فلاں چیزیں خریدوں گا(حالانکہ خریدنے کی نیت نہیں ہوتی ) تواسے جھوٹا لکھا جاتاہے۔ 
	حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  نے ارشاد فرمایا:اے ابْنِ آدم!تیرا نامۂ اعمال کھول دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ دو معزز فرشتے مقررکر دیے گئے ہیں، اب تیر ا جو جی چاہے عمل کرخواہ تھوڑاکریا زیادہ ۔
ملائکہ لوگوں کی گفتگو لکھ رہے ہیں:
	مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نےعِفْرِیْت(یعنی ایک طاقتورجِن)کو بھیجا اور(اس کے پیچھے)کچھ لوگوں کو بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ یہ کیا کہتا ہے اور آپ کو آکر خبر دیں۔چنانچہ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک بازار سے گزرا تو اپناسر آسمان کی طرف اٹھایا پھر لوگوں کی طرف دیکھااور اپنا سر ہلانے لگا۔ حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنےجِن سےاس بارے میں پوچھاتو اس نے کہا:مجھے ان فرشتوں پر تعجب ہو اجو انسانوں کے سروں پر ہیں کہ وہ کس قدر جلدی لکھتے ہیں اور جو ان کے نیچے لوگ ہیں ان پر بھی تعجب ہواکہ وہ کس قدر جلدی لکھواتے ہیں(یعنی مجھے لوگوں پر تعجب ہے کہ وہ کلام کرنا نہیں چھوڑتے حالانکہ ملائکہ ان کے کلام کو لکھ رہے ہیں )۔
مومن کا کلام:
	حضرت سیِّدُنا ابراہیم تیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:مومن جب بات کرنا چاہتاہے تو غور کرتا ہے، اگر فائدہ ہو تو کرتاہے ورنہ خاموش رہتاہےاور فاجر بلاتوقف بے سوچےسمجھے کلام کرتا چلا جاتا ہے۔
زیادہ گفتگو کرنے والا زیادہ جھوٹ بولتا ہے:
	حضرت سیِّدُناحسن بصری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:جس کی گفتگو زیادہ ہو اس کا جھوٹ بھی زیادہ ہوتا