مختلف حالتوں میں پیدا ہونے والی مختلف صِفات:
خنزیر یعنی خواہش کی پیروی کرنے سے انسان میں بےحیائی، خَباثت، اِسراف،کنجوسی، ریاکاری، رُسوائی، پاگل پن،بے ہودگی،حرص ولالچ، خوشامد، حسد، کینہ اورشَماتت(1)جیسی بری صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔کتے یعنی غصے کو اپنے اوپر سوار کرنے سے دل میں نامناسب امورپیداہوجاتے ہیں،مثلاًچھچوراپن، تکبر، گھمنڈ،خودپسندی اور گالی گلوچ کرنا، لوگوں کا مذاق اڑانا، انہیں حقیر جاننااورظلم جیسی بری صفات جنم لیتی ہیں۔الغرض خواہش و غصے کی پیروی کرنا درحقیقت شیطان کی غلامی کرنا ہے جس سے انسان میں مکر وفریب، حیلہ بازی، مکاری، دغا بازی، بےباکی اور فحش گوئی جیسی بُری عادات پیدا ہوجاتی ہیں۔
اگر انسان اس کے برعکس ان تینوں کو احکامِ الٰہی کےذریعے مغلوب اور ان کے تابع کردے تو دل میں ربانی صفات یعنی علم وحکمت، یقین، اشیاء کی حقیقتوں کا علم، معاملات کی صحیح پہچان اپنا مستقل ٹھکانا بنالیتی ہیں اور علم و بصیرت کے سبب اسے ہرایک پر برتری حاصل ہوجاتی ہے، خواہش اور غصے کی بندگی سے چھٹکارہ حاصل ہوجاتا ہے۔ خواہشات کی پیروی سے بچنے اور انہیں اعتدال پر رکھنے کے سبب اس میں پاکدامنی، قناعت، نرمی، زُہْد وتقوٰی، خوش مزاجی، حیا، ظرف اور دوسروں کی مدد اور ان جیسی دیگر اچھی صفات پیدا ہوجاتی ہیں، غصے پر قابو پانے اور اسے ضرورت تک محدود کرنے کے سبب اسے شجاعت ووقار، دلیری، ضبط نفس، صبر، بردباری، برداشت، درگزر، نیکیوں پر استقامت جیسی عظیم نعمتیں حاصل ہوجاتی ہیں۔
دل آئینہ کی مثل ہے:
دل آئینہ کی مثل ہے جسے اچھی بری صفات نے گھیر رکھا ہے اور مسلسل اس تک پہنچنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ اچھی صفات جن کا ابھی ذکر ہوا وہ اس آئینہ کو جلا بخشتی اور اس کے نور اور چمک کو بڑھاتی رہتی ہیں حتی کہ اس میں رب تعالیٰ کی تجلی جلوہ گر ہوتی ہے اور اس پر دین کی حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے۔ ایسے ہی دل کے متعلق رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”اِذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا جَعَلَ لَہٗ وَاعِظًا مِنْ قَلْبِہ یعنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شماتت سے مراد ہے کسی کو مصیبت میں دیکھ کر خوش ہونا۔ (اتحاف السادةالمتقین،۸/ ۴۱۶)