بہت زیادہ ہو نی چاہئے، لہٰذا تم اس کا ذکر یوں نہ کرو مثلاً تم اپنے کتےیاگدھے کے لئے کہو”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اسے برباد کردے۔“اور اس جیسے دوسرے جملوں سے بھی بچو۔
فضول کلام کااِحاطہ نہیں کیا جا سکتا:
یاد رکھئے! فضول کلام کااحاطہ نہیں کیا جا سکتا البتہ ضروری گفتگوقرآن کریم میں محصور ہے ۔چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجْوٰىہُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوۡفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بـَیۡنَ النَّاسِ ؕ (پ۵،النساء:۱۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اُن کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے کا۔
حضورنبیّ رحمت،شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اس شخص کیلئے خوشخبری ہے جو اپنی زبان کی زائد گفتگو کو روک لے اور اپنا زائد ما ل خرچ کردے۔(1)
لیکن افسوس لوگوں نے معاملے کو کیسےتبدیل کردیاکہ زائد مال کو روک لیتے ہیں اور زبان کو فضول گفتگو کے معاملے میں آزاد چھو ڑدیتے ہیں۔
شیطان تمہیں جال میں نہ پھنسا لے:
حضرت سیِّدُناعبداللہبن شِخِّیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:میں بنو عامر کے چند لوگوں کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا،ان لوگوں نے کہا:آپ ہمارے والد ہیں،ہمارے سردار ہیں، ہم میں سب سے افضل ہیں، سب سے زیادہ کرم و مہربانی فرمانے والے ہیں،اور انتہائی مہمان نواز ہیں آپ ایسے ہیں،آپ ویسے ہیں۔ ارشاد فرمایا:تم اپنی بات کہو،کہیں شیطان تمہیں جال میں نہ پھنسا لے۔(2)
اس حدیث پاک میں اس بات کی طرف اشارہ ہےکہ جب زبا ن کسی کی تعریف کیلئے کھلتی ہے، اگرچہ تعریف سچی ہو لیکن یہ خوف ہونا چاہئےکہ شیطان بے ضرورت زائد کلام نکلواکر اپنے جال میں نہ پھنسا لے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…السنن الکبری للبیھقی،کتاب الزکاة،باب ماوردفی حقوق المال،۴/ ۳۰۶،حدیث:۷۷۸۳ بتغیر
2…سنن ابی داود ، کتاب الادب ، باب فی کراھیة التمادح ،۴/ ۳۳۴، حدیث :۸۰۶