ہو جائے مگر گو شہ نشینی اختیارنہ کرنے والےکے لئے ایسی باتوں سے زبان کوبچانا بہت مشکل ہوتا ہے۔
آفت نمبر2: فضول کلام
یہ بھی قابل مذمت ہےاوراس میں بے فائدہ کلام بھی شامل ہے اور وہ کلام بھی جومفید تو ہو لیکن حاجت سے زائد ہوکیونکہ مفید کام کومختصر گفتگو کے ذریعے بھی ذکر کرنا ممکن ہے اوربڑھا چڑھا کر اور تکرار کے ساتھ بھی ذکر کرنا ممکن ہے۔جب ایک کَلِمہ کے ذریعے اپنے مقصود کو ادا کر سکتا ہے لیکن اس کے باوجود دو کلمے کہتا ہے تو دوسراکلمہ فضول یعنی حاجت سے زائد ہوگااور یہ بھی مذموم ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا اگر چہ اس میں کوئی گناہ اور ضرر نہ ہو۔
بُزرگانِ دِین کااَنداز:
حضرت سیِّدُناعطاء بن اَبی رَباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ارشادفرماتے ہیں:تم سے پہلے کے لوگ فضول کلام ناپسند کرتے تھےاور ان کے نزدیک قرآن وسنت،نیکی کی دعوت دینے، برائی سے منع کرنے اور دنیاوی زندگی کی ضرورت کے علاوہ ہر کلام فضول تھا،کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ بے شک تم پر کچھ معزّز لکھنے والےنگہبان ہیں جن میں ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں،کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔کیا تم میں سے کوئی اس بات سے حیا نہیں کرتاکہ جب اس کانامۂ اعمال کھولاجائے کہ جسے اس نے اپنے دن کی ابتدا ہی میں بھر دیاتھاتواس میں اکثر وہ باتیں ہوں جن کا دین و دنیا سے کوئی تعلق نہ ہو۔
کہیں یہ فضول کلام نہ ہو:
ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہارشادفرماتے ہیں:ایک شخص مجھ سے کوئی بات کرتا ہے تو اس کا جواب دینا مجھے اتنا زیادہ مرغوب و پسندیدہ ہوتاہے جتنا ایک پیاسے شخص کو ٹھنڈاپانی بھی نہیں ہو تا لیکن میں اس خوف سے اس کا جواب نہیں دیتا کہ کہیں یہ فضول کلام نہ ہو۔
شانِ الٰہی کی تعظیم:
حضرت سیِّدُنامُطَرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:تمہارے دلوں میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظمت و جلا لت