Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
347 - 1245
 گفتگو کی مثال وہ روایت ہے جوحضرت سیِّدُنالُقْمان حکیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکےمتعلق منقول ہے۔چنانچہ 
حکایت :خاموشی حکمت ہے
	ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنالُقْمان حکیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی خدمت میں حاضر ہوئے،اس وقت آپعَلَیْہِ السَّلَام زرہ بنا رہے تھےاور چونکہ آپ  نے اس سے پہلے زرہ نہیں دیکھی تھی اس لئے اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگےاور اس بارے میں سوال کرنا چاہا توحکمت کے سبب سوال کرنے سے باز رہے۔ جب حضرت سیِّدُنا داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامزِرَہ بنانےسے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور اسے پہن کر ارشاد فرمایا: جنگ کیلئے زرہ کیا ہی اچھی چیز ہے۔یہ سن کر حضرت سیِّدُنالقمان حکیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےکہا: خاموشی حکمت ہےمگر اس کو اختیار کرنے والے کم ہیں۔ یعنی سوال کے بغیر ہی اس کے متعلق علم ہوگیا اور سوال کی حاجت نہ رہی۔
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنالقمان حکیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک سال تک حضرت سیِّدُنا داؤعَلَیْہِ السَّلَامکی بارگاہ میں اس ارادے سے حاضر ہو تے رہے کہ انہیں زرہ کے بارے میں بغیر سُوال کئے معلوم ہو جائے۔
	یہ اور اس طرح کے سوالات میں جب ضرر اور پردہ دری نہ ہو نیزریاکاری اور جھوٹ میں مبتلاہونا نہ پایا جائے تو یہ بے فائدہ گفتگو ہے اور اسے چھوڑدینا اسلام کی خوبی  سے ہے ۔یہ بے فائدہ گفتگو کی تعریف تھی۔
بے فائدہ گفتگوکے اسباب اور ان کاعلاج:
	بے فائدہ گفتگو کا سبب جو اس پر ابھا رتا ہے وہ یا تو ان باتوں کو جاننے کی حرص ہے جن کی اسے کوئی حاجت نہیں یا کسی سے محبت اور دوستی کے تعلق کی بنا پر کلام کو پھیلانا ہے یابے فائدہ احوال کو بیان کرنے میں وقت گزارنااس کا سبب ہے۔ان سب کا علاج اس بات کایقین رکھنا ہے کہ موت اس کے سامنے ہے اور اس سے ہرلفظ کے متعلق سوال کیا جائے گااور اس کاسانس اس کاسَرمایہ ہےنیز يہ ایساسَرمایہ ہے جس کے ذریعے وہ حُورِ عین کو حاصل کر سکتا ہے،لہٰذا اس سے غفلت برتنا اور اس کو ضائع کرناکھلا نقصان ہے ۔یہ توعلم کے اعتبار سے علاج تھا اور عمل کے اعتبار سے علاج یہ ہے  کہ وہ گوشہ نشینی اختیار کرے یا اپنے منہ میں کنکری رکھے اور اس کے ذریعے خود کو بعض مفیدباتوں سے بھی خاموش رہنے کا پابند کرےتا کہ زبان بے فائدہ باتوں کو چھوڑنے کی عادی