Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
346 - 1245
 احتیاطوں کے باوجود  بھی تم اپنا وقت برباد کرنے والے ہوگے اور ہماری ذکر کردہ آفات سے نہیں بچ سکو گے۔
غیر ضروری سُوال کرنے کی آفتیں:
	بے فائدہ گفتگو میں سے تمہا را دوسرے سے غیرضروری چیز کے بارے میں سوال کرنا بھی ہے اور اس طرح کا سوال کرکےتم اپنا بھی وقت ضائع کرو گےاوردوسرے کو بھی جواب دینے کے ذریعے وقت ضائع کرنے پر مجبور کردو گے اور یہ بھی اس وقت ہے جب سوال کرنے میں کوئی آفت نہ ہو ورنہ اکثر سوالات میں عموماًآفات ہو تی ہیں۔مثال کے طور پر تم کسی سے اس کی عبا دت کے بارے میں سوال کرتے ہو ئے پو چھو کہ ”کیا تم روزہ دار ہو؟“اگر اس نے ہاں میں جواب دیاتووہ اپنی عبادت کا اظہار کرنے والا ہوا اور یوں وہ ریاکاری میں پڑسکتا ہے ۔اگر وہ رِیا کاری میں نہ بھی پڑے تب بھی اس کی عبادت پوشیدہ عبادت کے رجسٹر سے خارج ہو جائے گی اور پوشیدہ عبادت،عَلانیہ عبادت سے کئی درجے فضیلت رکھتی ہےاور اگر وہ کہتا ہے کہ ”نہیں“تو وہ جھوٹ بو لنے والا ہو گا اور اگر وہ خاموش رہے تو وہ تمہیں حقیر سمجھنے والا ہوااور اس سبب سے تم اذیت اٹھاؤ گےاور اگر وہ جواب دینے میں ٹال مٹول سے کام لےتو اسے مشقت اٹھا نی پڑے گی تو تم ایک سوال کے سبب اسےریا کاری یا جھوٹ بولنے یا حقیر جاننے یا جواب کو ٹالنے کی زد میں لے آئے۔
	ایسے ہی تمہارا اس کی دیگر عبادات کے بارے میں سوال کرنا ہےاوراسی طرح گناہ اور ہراس چیزکے بارے میں سوال کرنا ہے جسے وہ لوگوں سے چھپاتا اور اسےبتانے سے شرماتاہے۔ اسی طرح اگر کوئی دوسرے سے گفتگو کررہا ہو اور بعد از گفتگو تم اس سے پوچھو کہ”تم کیا کہہ رہے تھے اور کس بارے میں بات کررہے تھے؟“اور ایسے ہی راستے میں تم کسی شخص کو دیکھ کر اس سے دریافت کرو کہ ”تم کہاں سے آرہے ہو؟“تو بعض اوقات کوئی ایسی رکاوٹ حائل ہو تی ہے جو اس کو بتانے سے روکتی ہےاوراگر بیان کر دیتا ہے تو اسے اذیت ہو تی ہے اور شرم آتی ہے اور اگر وہ سچ نہیں بولتاتو جھوٹ میں جا پڑتا ہے جس کا سبب تم بنتے ہو۔ ایسے ہی تم کوئی ایسامسئلہ پوچھو جس کی تمہیں حاجت نہ ہو اور جس سے سوال کیا گیا ہو تا ہے بعض اوقات اس کا نفس لَااَدْرِی(یعنی میں نہیں جانتا) کہنے پر راضی نہیں ہوتا اور یوں وہ بغیر علم و بصیرت کے جواب دے دیتا ہے۔
	بے فائدہ گفتگو سے میری مراد اس قسم کے سوالات نہیں کیو نکہ ان سے تو گناہ یا ضرر پہنچتا ہے۔بے فائدہ