سیِّدُنالقمان حکیمرَضِیَ اللہُ عَنْہکی حکمت:
حضرت سیِّدُنالُقْمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کی گئی:آپ کی حکمت کیاہے؟ ارشادفرمایا:جس چیز کی مجھے ضرورت نہیں ہوتی اس کے بارے میں سوال نہیں کرتا اور جوچیز مجھے فائدہ نہیں دیتی اس میں نہیں پڑتا۔
20سا ل سے ایک چیز کی طلب:
حضرت سیِّدُنامُوَ رِّق عِجلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی فرماتے ہیں: میں بیس سا ل سے ایک چیز کی طلب میں ہوں مگر میں اس پر قادر نہیں ہو سکالیکن میں نے اس کی طلب بھی نہیں چھوڑی ہے۔لوگوں نے عرض کی:وہ کیا ہے؟ ارشاد فرمایا:بے فائدہ باتوں سے خاموشی۔
فاجر کے پاس نہ بیٹھو:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:بے فائدہ کام میں مت پڑو، اپنے دشمن سے علیحدہ رہو اور اپنے دوست سے بھی ڈرتے رہو البتہ یہ کہ وہ امین ہو اور امین صرف وہی ہے جو اللہعَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتا ہے اور فاجِرکے پاس نہ بیٹھوکیو نکہ اس سے گناہ ہی سیکھو گے اور اس کو اپنے راز پر مطلع نہ کرو اور اپنے معا ملے میں ان لوگوں سے مشورہ کرو جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے ہیں ۔
بے فائدہ گفتگو کی تعریف:
بے فائدہ گفتگو کی تعریف یہ ہے کہ تمہاراایساکلام كرنا کہ اگر اس سے رک جاتے تو گناہ گار نہ ہو تے اور نہ ہی فی الحال یا آیندہ کوئی نقصان ہوتا۔مثلاً تم کسی مجلس میں لوگوں کے سامنے اپنے سفر کا ذکر کرو اور اس میں جو پہاڑ اورنہریں دیکھیں اور جو واقعات تمہارےساتھ پیش آئے انہیں بیان کرونیز جو کھانے اور کپڑے تمہیں اچھے لگے انہیں اورمختلف شہروں کے مشائخ کی تعجب خیز باتیں اوران کے تعجب انگیز واقعات ذکر کرو۔تو یہ وہ امور ہیں کہ اگر تم انہیں بیان نہ بھی کرتےتب بھی گنہگارنہ ہوتے اور نہ ہی کوئی نقصان اٹھاتے۔پھراگر چہ تم اس بات کی بھر پور کوشش کرو کہ واقعہ بیان کرنے میں کوئی کمی بیشی نہ ہو جا ئے اورنہ ہی اس میں تزکیۂ نفس ہو کہ ان عظیم واقعات کے مشاہدے پر فخرکرو اور نہ اس میں کسی کی غیبت اورنہ مخلوقِ خُدا کی مَذمَّت ہو،ان ساری