سرور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: تم نے کیسے جان لیا(کہ یہ جنتی ہے۔)ہوسکتا ہے کہ یہ بے فائدہ گفتگو کرتا ہو اورایسی چیز سے منع کرتا ہو جس کے دینے سے اسے نقصان نہ ہو(یعنی بخل سے کام لیتا ہو)۔ (1)
ایک روایت میں ہےکہ اللہ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نہ پایا توان کے بارے میں پوچھا؟صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی کہ وہ بیمار ہیں۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔جب ان کے پاس پہنچے تو ارشاد فرمایا: اے کعب!تمہیں خوشخبری ہو۔ یہ سن کران کی والِدَہ نے کہا: اے کعب! تمہیں جنت مبارک ہو ۔رسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پرحکم لگانے والی کون ہے؟ حضرت کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ میری والِدَہ ہیں۔ ارشاد فرمایا: اے کَعب کی والدہ !تمہیں کیسے معلوم ہو ا(کہ یہ جَنَّتِی ہے)ہو سکتا ہے کہ اس نے لایعنی(یعنی بے فائدہ)گفتگو کی ہواور ایسی چیز سے منع کیا ہو جس کی اسے حاجت نہ ہو۔(2)
مطلب یہ ہے کہ جنت کی مبارک باد کامُسْتَحِق وہ ہے جس سے حساب نہیں لیا جائے گا اور جس نےبے فائدہ گفتگو کی ہو گی اس سے توحساب لیا جائے گا اگر چہ اس کا کلا م مُباح و جائز ہواورحساب میں اگرسختی کی گئی تو یہ عذاب کی ایک قسم ہے۔
جَنَّتِی شخص:
حضرت سیِّدُنا محمدبن کَعب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں کہ سرکارِدوعالَم،نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک مرتبہ (ایک دروازے کی طرف اشارہ کرکے )ارشاد فرمایا:”جو سب سے پہلے اس دروازے سے داخل ہو گا وہ جنتی ہے۔“حضرت سیِّدُناعبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سب سے پہلے اس دروازے سے داخل ہوئے ۔یہ دیکھ کر کچھ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ان کے پاس گئے اور جو کچھ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے متعلق فرمایا تھااس کی خبر دی اور ان سے کہا کہ آپ ہمیں اپنے اندر ایسے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت، باب النھی عن الکلام فیما لا یعنیک،۷/ ۸۵، حدیث : ۱۰۹
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت،۷/ ۸۶،حدیث : ۱۱۰