کمتر چیز پائےگا کیو نکہ اگروہ گفتگو کرنے کے بجائے اپنا وقت غور وفکر میں صرف کرتاتوبہت ممکن تھا کہ اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کےایسے خزانے کُھلتے جن کا فائدہ عظیم ہوتا۔اسی طرح اگروہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرتا اورتسبیح وتہلیل کرتا(یعنی لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ اورسُبْحٰنَ اللہکہتا)تویہ ضرور اس کے حق میں بہتر ہوتاکیونکہ کتنے ہی کلمات ایسے ہیں جن کے سبب جنت میں محل بنایا جاتا ہے۔ جو شخص خزانوں میں سے کسی خزانے کو لینے پر قدرت رکھتا ہےلیکن وہ اس کے بجائے مٹی کا ایسا ڈھیلا لے لیتا ہے جس سے وہ نفع نہیں اٹھا سکتا تو وہ کُھلا نقصان اٹھانے والاہے۔ایسے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ذِکْرُ اللہ کو چھوڑ کر ایسےمُباح کام میں مشغول ہو جاتا ہے جو اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہوتا، اگرچہ وہ اس کے سبب گناہ گار نہیں ہوتا لیکن اس اعتبار سےوہ نقصان ضروراٹھاتاہے کہ ذکرکے ذریعے حاصل ہو نے والا عظیم فائدہ اس سے فوت ہوجاتاہے۔حدیْثِ پاک میں ہے: مومن کی خاموشی صرف فکر کے لئے،نظر صرف عِبْرت کے لئے اور بولنا صرف ذکر کے لئے ہوتا ہے۔ (1)
انسان کا سرمایہ:
انسان کا سرمایہ اس کے اوقات ہیں اورجب وہ انہیں بے فائدہ کاموں میں صرف کرتا ہے اور اس سرمایہ کو آخرت کے لئے ذخیرہ نہیں کرتاتو بے شک وہ اپنا سرمایہ ضائع کرنے والا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے حضورنبیّ پاک،صاحب ِلولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْء ِتَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیہِ یعنی انسان کے اسلام کی خوبیوں میں سے ہے کہ جو نفع نہ دے اسے چھوڑ دے۔(2)ایک حدیث اس سے بھی زیادہ سخت مضمون پر مشتمل ہے۔ چنانچہ
بے فائدہ گفتگو کا نقصان:
حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں:غزوۂ اُحُد کے دن ہم میں سے ایک نوجوان شہید ہو گیا ۔ہم نے اس کے پیٹ پر (بھوک کی وجہ سے)پتھر بندھا ہوا دیکھا۔اس کی ماں اس کے چہرے سے مٹی صاف کرکے کہنے لگی: اے میرے بیٹے! تمہیں جنت مبارک ہو۔ یہ سن کر سلطان بحر وبر ،تمام نبیوں کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاة المصابیح ، کتاب الرقاق، باب البکاء والخوف،۲/ ۲۷۴،حدیث :۵۳۵۸بتغیر
2… سنن الترمذی ، کتاب الزھد،۴/ ۱۴۲، حدیث :۲۳۲۴