مفیدتویہ فضول کلام ہے اس میں مشغول ہونا وقت کو ضائع کرنا ہے اور یہ بڑا خسارہ اور نقصان ہے۔اب صرف چوتھی قسم باقی رہ جا تی ہے تو کلام کا تین چوتھائی حصہ ساقط ہو گیا اور ایک چوتھائی رہ گیااور اس چوتھائی حصے میں بھی خطرہ ہے کیونکہ خالص مفید گفتگو میں بھی گناہ مثلاً پوشیدہ ریاکاری، دکھلاوا، غیبت ،اپنی تعریف چاہنااورفضول کلام شامل ہو جاتے ہیں اوریہ شمولیت ایسی ہو تی ہے (کہ اکثر لوگوں کے لئے)جسے جاننا مشکل ہوتا ہےلہذا انسان خطرے میں ہے اور جو شخص زبان کی آفات کی باریکیوں کو جان لے گا جیسا کہ ہم عنقریب انہیں ذکر کریں گے تو وہ لازماًیہ بھی جان لے گا کہ اللہکے محبوب،دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو ارشاد فرمایاوہ قول فیصل ہے۔چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:” جو چپ رہا اس نے نجات پائی۔“(1)آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوبالیقین حکمتوں کے جواہر اورجامع کلمات عطا کئے گئے ہیں۔(2)اورآپ کے ایک ایک کلمے کے تحت معانی کا جو سَمُندر ہے اسے صرف خَوّاص علما ہی جانتے ہیں۔ اِنْ شَآءَ اللہزبان کی آفات اور ان سے بچنے کی مشکل میں تم اس حقیقت کو جان لوگے،اب ہم زبان کی آفات ذکر کریں گے اور ابتدا سب سے ہلکی آفت سے کریں گےاور پھر دَرَجہ بَدَرَجہ سخت قسم کی آفات بیان کریں گے، غیبت ،چغلی اور جھوٹ سے متعلق کلام کو آخر میں ذکر کریں گےکیو نکہ ان کے بارے میں گفتگو زیادہ طویل ہے۔یہ 20آفتیں ہیں،انہیں جان لو تاکہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد سےسیدھے راستے پرگامزن ہوسکو۔
باب نمبر2: زبان کی 20آفات
آفت نمبر1: بے فائدہ گفتگو
انسان کےاحوال میں سے بہترین حالت یہ ہے کہ وہ ہماری ذکرکردہ آفات یعنی غیبت ،چغلی، جھوٹ اور لڑائی جھگڑے وغیرہ سے اپنی گفتگو کی حفاظت کرےاور ایسی جائز ومُباح بات کہے جس میں خود اسے اور کسی دوسرے مسلمان کوکوئی نقصان نہ پہنچے۔اگر انسان ایسی گفتگو کرے گا جس کی اسے حاجت نہ ہو تو اس کے سبب وہ اپنا وقت ضائع کردے گا اور زبان کو استعمال کرنے پراس سے حساب لیا جائے گا نیز وہ بہتر کے عِوَض حقیر اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی، کتاب صفة القیام،۴/ ۲۲۵، حدیث: ۲۵۰۹
2… بخاری ، کتاب التعبیر، باب المفاتیح فی الید،۴/ ۴۱۳،حدیث :۷۰۱۳