Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
340 - 1245
تو دوات ،کاغذ اور قلم رکھتے اور جو گفتگو بھی کرتے اسے لکھ لیتے پھر شام کے وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرتے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	خاموشی کی اتنی بڑی فضیلت کس وجہ سے ہے ؟جواب: بولنے میں کثیر آفات ہیں غَلَطی،جُھوٹ، غیبت،چُغْلی،رِیاکاری،نِفاق،فُحْش گوئی،بحث ومُباحثہ کرنا،اپنی تعریف کرنا،باطِل میں مشغول ہونا،جھگڑا کرنا،فضول گفتگو کرنا،بات بڑھانا گھٹانا ،مخلوق کو ایذا دینا اورکسی کی  پردہ دری کرنے جیسے عُیوب کا تعلق زبان ہی سے ہے ۔یہ کثیر آفات زبان پر بہت جلد آجاتی ہیں اور زبان پر بوجھ بھی نہیں بنتیں اور دل کوان کی وجہ سے لُطْف وسُرُور حاصل ہوتاہے،خود  طبیعت  بھی ان  پر اکساتی ہے اور شیطان بھی زور لگاتاہے۔ان آفات میں پڑنے والا زبان کی حفاظت  کرنے سے قاصر رہتا ہے کیونکہ وہ اپنی من پسند بات کر گزرتا ہے اور جو خود کو ناپسند ہو اس سے خاموش رہتا ہےجبکہ یہ(یعنی کہاں بولنا اچھا ہے اور کہاں برا) مخفی اور پیچیدہ علم میں سے ہےجیسا کہ عنقریب اس کی تفصیل آئے گی،لہٰذا بولنے میں خطرہ ہے اورچپ رہنےمیں عافیت ہےیہی وجہ ہے کہ خاموشی کی بڑی فضیلت ہے۔ نیز خاموش رہنے سے مُنْتَشِر خیالات و اَفکاریکجا ہو جاتے ہیں، وقار قائم رہتا ہے، بندہ  ذکر وفکر اور عبادت کےلئے فارغ ہو تا ہے، دنیا میں بولنے کے برےانجام سے امن میں اور آخرت میں اس کے حساب سےفارغ رہتا ہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ارشاد فرماتاہے:
مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ ﴿۱۸﴾ (پ۲۶،ق:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان: کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔
کلام کی اَقسام:
	خاموشی کے ضروری ہونےپر ایک امر رہنمائی کرے گا اور وہ یہ ہے کہ کلام چار قسموں پر مشتمل ہے: (۱)…خالص نقصان دہ۔(۲)…خالص مفید۔(۳)…نقصان دہ بھی اور مفید بھی۔(۴)…نہ نقصان دہ اور نہ مفید۔
	جو خالص نقصان دہ ہے اس سے پرہیز کرناضروری ہے اورجو نقصان دہ بھی ہے اور مفید بھی لیکن اس کا فائدہ ونفع،نقصان کے برابر نہیں ہے(بلکہ کم ہے )اس سے بھی بچنا ضروری ہے۔جو نہ نقصان دہ ہےاور نہ