Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
34 - 1245
 وفریب سے پردہ اٹھاتا اور اس سے بچاتا ہے۔نیز خواہش کو غصے کے ذریعے دباتا ہے کہ غصہ خواہش کو کم کرتا ہے اور غصے کو خواہش کے ذریعے قابو کرتا ہے حتّٰی کہ غصہ  مغلوب ہوجاتا ہے۔
	اگر عقل ایسا کرتی رہے حتّٰی کہ کتے، خنزیر اور شیطان  پر غلبہ پا لے تو اعتدال کی قائل ہوجاتی ہے اور انسانی بدن جو ایک سلطنت کی مانند ہے اس میں عدل قائم ہوجاتا ہے اور ہرعضو سیدھے راستے پر چلنا شروع کردیتا ہے۔ اگرعقل ان پرغلبہ نہ پاسکے تو یہ تمام اس پر غالب آجاتے اور اسے اپنا غلام بنا لیتے ہیں پھر عقل ہمیشہ خواہش پوری کرنے اورغصے کو نافذ کرنے کے حیلے بہانے تلاش کرتی  رہتی  ہے اور ساری زندگی ان کی بندگی میں گزار دیتی ہے۔ اکثر لوگوں کا یہی حال ہے کہ وہ پیٹ اور شرم گاہ کی خوشامد میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔
خِنْزِیراورکُتّے کی بندگی کرنے والے:
	حیرت ہے اس شخص پر جو بت پرستی کو پتھروں کی پوجا کہے اور اس سے منع کرے لیکن اگر اس کی حقیقت سے پردہ اٹھایا جائے اور اہْلِ کشف کی طرح خواب یا بیداری میں اس کی حقیقت حال اس پر واضح کی جائے تو وہ خود کو خنزیر(یعنی خواہش) کے سامنے جھکا ہوا پائےکبھی سجدے کی حالت میں، کبھی رکوع کرتا ہوا اور کبھی اس کے حکم کا منتظر کہ جب بھی  خواہش پیدا تو فورًا پوری کردے۔ یونہی خود کو پاگل کتے(یعنی غصے) کے سامنے جھکا ہوا اس کی عبادت کرنے والا اور اس کی ہرخواہش پوری کرنے کی ہرممکن کوشش کرنے والا پائے۔ایسا انسان ہروقت شیطان کو خوش کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے کیونکہ شیطان ہی خواہش اورغصے کو بھڑکاتا اور انہیں انسان کو اپنا غلام بنانے پر ابھارتا ہے۔ اس طرح انسان ان کے ذریعے شیطان کی غلامی کرتا رہتا ہے۔انسان اگر اپنی حرکات وسکنات، سکوت وکلام اور اٹھنے بیٹھنے کی طرف توجہ کرے اور انصاف کی نگاہ سے دیکھے تو ضرور اس پر ظاہر ہوجائے کہ دن بھر یہ خنزیر، کتے اور شیطان ہی کی بندگی کرتا ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اس نے مالک کو مملوک، حاکم کو محکوم، آقا کو غلام اور غالب کو مغلوب کیا ہوا ہے۔ عقل جو سرداری اور حاکمیت کی مستحق ہے اسے انسان نے ان تینوں کا غلام بنا رکھا ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ دل بھی اس غلامی کا شکار ہوجائے حتّٰی کہ دل پر مہر لگادی جائے جو دل کے لئے ہلاکت وبربادی کا باعث ہو۔