Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
339 - 1245
الْعَزِیْز نے ہماری طرف  ایک مکتوب لکھا: اَمَّابَعْد!جو موت کو کثرت سے یاد کرتا ہےوہ دنیا کے تھوڑے سے مال پر راضی ہو جاتا ہے اور جو اپنی گفتگوکو  اپنےعمل میں شمار کرتا ہےوہ بے فائدہ اور بے مقصد کلام کم کرتا ہے۔
﴿7﴾…ایک بزرگ فرماتے ہیں:خاموشی آدمی میں دو فضیلتیں جمع کر دیتی ہے: ایک اس کا دین سلامت رہتا ہےاوردوسرا وہ اپنے ساتھی کی بات کو سمجھ لیتا ہے۔
﴿8﴾…حضرت سیِّدُنامحمد بن واسععَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ النَّافِعنے حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار  سے فرمایا: اے ابو یحییٰ!لوگوں پر زبا ن کی حفاظت ،درہم ودینار کی حفاظت سے زیادہ سخت ہے۔
﴿9﴾…حضرت سیِّدُنایونُس بن عُبَیْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جس شخص کی زبان دُرُسْتِی پر قائم رہتی ہےتم اس كا اثراس كے ہر عمل میں دیکھو گے۔
﴿10﴾…حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں:لوگ حضرت سیِّدُنا اَمیْرِمُعاوِیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے پاس گفتگو کررہے تھےاور حضرت سیِّدُنااَحْنَف بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  خاموش تھے۔حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے حضرت احنف بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے پوچھا:اے ابوبَحْر!کیا وجہ ہے کہ آپ گفتگو نہیں کر رہے؟انہوں نے کہا:اگر میں جھوٹ بولوں تو  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   سے ڈرتا ہوں اگر سچ کہوں تو آپ کا خوف ہے ۔
﴿11﴾…حضرت سیِّدُناابوبکر بن عَیَّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں:چار ممالک ہند ،چین ،روم اور ایران  کے بادشاہ ایک جگہ جمع ہوئے۔ان میں سے ایک نے کہا: میں صرف اپنے کہے پر شرمندہ ہوتا ہوں جبکہ خاموش رہوں تو نادم نہیں ہوتا۔دوسرے نے کہا:جب میں کوئی بات کہتا ہوں تو وه مجھ پرحاوی ہو جاتی ہے اور میں اس پر حاوی نہیں رہتا اور جب میں کوئی بات نہ کہوں تو میرا اس پر قابو ہو تا ہے اور اس کا مجھ پرکچھ قابو نہیں ہو تا۔ تیسرے نے کہا:مجھے بولنے والے پر تعجب ہے کہ اگر وہی بات اس کی طرف لوٹ جائے تو اسے نقصان دے اور اگر نہ لوٹے تو نفع بھی نہ دے۔چوتھے نے کہا:میں کہی ہوئی بات کے مقابلے میں نہ کہی ہو ئی بات سے رجوع کرنے پر زیادہ قادر ہوں۔
﴿12﴾…منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنامنصور بن مُعْتَمِررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے چالیس سال  تک عشا کے بعد گفتگونہ کی۔
﴿13﴾…حضرت سیِّدُنا رُبَیع بن خَیْثَم  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم  نے بیس سال  تک دنیاوی گفتگو نہیں کی ۔ جب صبح ہوتی