کے آگے ہوتی ہے،جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اپنی زبان پر لے آتا ہے اور اس کے بارے میں اپنے دل میں غور و فکرنہیں کرتا۔(1)
﴿29﴾…حضرت سیِّدُناعیسٰیرُوْحُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامفرماتے ہیں:عباد ت کے دس اَجزاءہیں جن میں سے نو خاموشی میں ہیں اور ایک لوگوں سے دور بھاگنےمیں۔
﴿30﴾…مَنْ کَثُرَکَلَامُہٗ کَثُرَسَقْطُہٗ وَمَنْ کَثُرَ سَقْطُہٗ کَثُرَتْ ذُنُوْبُہٗ وَمَنْ کَثُرَتْ ذُنُوْبُہٗ کَانَتِ النَّارُ اَوْلٰی بِہٖیعنی جو زیادہ بولتا ہے وہ غلطیاں زیادہ کرتا ہے اور جو غلطیاں زیادہ کرتا ہے اس کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں اور جس کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں جہنم اس کے زیادہ لائق ہے۔(2)
زبان کی حفاظت سےمتعلق12اقوالِ بزرگانِ دین:
﴿1﴾… امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ گفتگو سے بچنے کے لئے اپنے منہ میں کنکری رکھا کرتےاور اپنی زبان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کرتے:یہی وہ چیز ہے جومجھے ہلاکت کی جگہوں پرلے گئی ہے۔
﴿2﴾…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں زبان سے زیادہ کوئی چیز طویل قید کی حق دار نہیں ہے۔
﴿3﴾…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَافرماتے ہیں: میری زبان ایک درندہ ہےاگر میں اسے کھلا چھوڑ دوں تومجھے کھا جائے۔
﴿4﴾…حضرت سیِّدُنا وَہَب بن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:آل ِداود کی حکمت سے ہےکہ عقلمندپر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے کی خبر رکھے ،اپنی زبان کی حفاظت کرے اور اپنے کام پرتوجہ رکھے۔
﴿5﴾…حضرت سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:جوزبان کی حفاظت نہیں کرسکتا وہ دین کی حقیقت کو نہیں جان سکتا۔
﴿6﴾…حضرت سیِّدُناامام اَوزاعِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناعمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، باب فی حفظ اللسان،۴/ ۲۶۶ ، حدیث : ۵۰۳۴
2…شعب الایمان، باب فی حفظ اللسان ،۴/ ۲۶۳، حدیث : ۵۰۱۹ باختصار