وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے نصیحت فرمائیے۔ارشاد فرمایا:”اللہعَزَّ وَجَلَّ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرواور اگر تم چاہو تومیں تمہیں اس چیز کے متعلق خبر دوں جو ان تمام چیزوں کے مقابلے میں تمہارے زیادہ اختیا ر میں ہے۔یہ کہہ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہاتھ کے ذریعے اپنی مبارک زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔(1)
﴿18﴾…حضرت سیِّدُنا صفوان بن سُلیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ سرکارِنامدار ،مدینے کے تاجدا ر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:کیا میں تمہیں ایسی عبادت کے متعلق خبر نہ دوں جو سب سے زیادہ آسان اور بدن پر سب سے زیادہ ہلکی پھلکی ہے(پھر خود ہی ارشاد فرمایا)وہ خاموشی اور حُسن اخلاق ہے۔(2)
﴿19﴾…مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِفَلْیَـقُلْ خَیْرً ا اَوْ لِیَسْکُتْیعنی جواللہ عَزَّ وَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔(3)
﴿20﴾…رَحِمَ اللّٰہُ عَبْدًاتَکَلَّمَ فَغَنِمَ اَوْ سَکَتَ فَسَلِمَیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندے پر رحم فرمائے جو کلام کرتا ہے تو فائدہ (یعنی ثواب)پاتا ہےیا خاموش رہ کر سلامت رہتا ہے۔(4)
﴿21﴾…حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے عرض کی گئی:ہمیں کوئی ایسا عمل ارشاد فرمائیےجس کے ذریعے ہم جنت میں داخل ہو جائیں؟ ارشاد فرمایا:کبھی بھی نہ بولو۔عرض کی گئی:ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ارشاد فرمایا:توبھلائی کی بات کے سوا کچھ نہ کہو۔
﴿22﴾…حضرت سیِّدُناسلیمان بن داؤد عَلَیْہِمَا السَّلَام نےارشادفرمایا:اگر(اللہعَزَّ وَجَلَّکی فرمانبرداری پر مشتمل ) گفتگو چاندی کی مثل ہے تو(اس کی نافرمانی سے) خاموشی اِختیار کرنا سونے کی مثل ہے۔
جنت میں لے جانے والے اعمال:
﴿23﴾…حضرت سیِّدُنابَراء بن عازِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اَعرابی بارگاہِ رِسالت میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب الصمت،۷/ ۴۳،حدیث :۲۲
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب الصمت،۷/ ۴۷،حدیث :۲۷
3…بخاری، کتاب الادب، باب اکرام الضیف....الخ،۴/ ۱۳۶، حدیث : ۶۱۳۶
4… موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب الصمت،۷/ ۶۴، حدیث :۶۴