﴿13﴾…آدمی جب صبح کرتا ہے تو تمام اعضاء، زبان سے کہتے ہیں:ہمارے بارے میں اللہعَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے رہناکیو نکہ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی درست رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔ (1)
﴿14﴾…منقول ہے کہ حضرت سیِّدُناعمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوديكھا کہ آپ اپنی مبارك زبان کو ہاتھ سے کھینچ رہے ہیں۔یہ دیکھ کرآپ نے عرض کی:اے رسول ُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خلیفہ!یہ آپ کیاکررہے ہیں؟ارشادفرمایا:یہ مجھے ہلاکت کی جگہوں پر لے گئی ہے۔ بے شک رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”جسم کا ہر عُضْو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں زبان کی تیزی کی شکایت کرتا ہے۔“(2)
اکثر خطائیں زبان سے سرزد ہوتی ہیں:
﴿15﴾…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کےمتعلق منقول ہے کہ آپ صَفا کے پہاڑ پر تَلْبِیَہ پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے: اے زبان!بھلائی کی بات کہہ فائدہ اٹھائے گی اور اس سے پہلے کہ تجھے نَدامَت اٹھانی پڑے ،بری بات کہنے سے خاموش رہ سلامت رہے گی۔ آپ سے پوچھا گیا:اے ابو عبد الرحمٰن! یہ بات آپ خود سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے کسی سے سنی ہے؟ارشاد فرمایا: میں نے سرکار مدینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ’’ابن آدم کی اکثر خطائیں اس کی زبان سے سرزد ہوتی ہیں۔‘‘ (3)
﴿16﴾…جو شخص (مسلمانوں کی عزتوں کے متعلق گفتگو کرنے سے) اپنی زبان کو روک لے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور جو اپنے غصے کو قابو میں رکھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے عذاب سے بچائے گااور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں عُذر پیش کرے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے عذر کو قبول فرمائے گا۔(4)
﴿17﴾…حضرت سیِّدُنامُعاذ بن جَبَلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نےرسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی ، کتاب الزھد، باب ماجاء فی حفظ اللسان ،۴/ ۱۸۳، حدیث:۲۴۱۵
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب الصمت،۷/ ۳۶، حدیث :۱۳
3…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب الصمت،۷/ ۴۰، حدیث :۱۸
4…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب الصمت،۷/ ۴۲، حدیث :۲۱