Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
333 - 1245
اس پر قائم رہو۔“ میں نے عرض کی: میں کس چیز سےڈروں؟ تو آپ نے اپنے ہاتھ مُبارَک سے  اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔(1)
﴿4﴾…حضرت سیِّدُنا عُقْبہ بن عامِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!نجات کیا ہے؟فرمایا:اپنی زبان كی حفاظت کرو، تمہارا گھر تمہیں کفایت کرےاور اپنے گناہوں پرآنسو بہاؤ۔(2)
﴿5﴾…مَنْ یَتَکَفَّلَ لِیْ بِمَابَیْنَ لِحْـیَیْہٖ وَرِجْلَیْہٖ اَتَکَفَّلُ لَـہٗ بِالْجَنَّةیعنی جو مجھے دونوں جبڑوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز (یعنی زبان اور شرم گاہ)کی حفاظت كی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔(3) 
﴿6﴾…مَنْ وُّقِیَ  شَرَّقَبْقَبِہٖ وَذَبْذَبِہٖ وَلَقْلَقِہٖ فَقَدْ وُقِیَ الشَّرَّ کُلَّہٗ یعنی جسے پیٹ،شرم گاہ اور زبان کے شر سے بچایا گیا اسے تمام کے تمام شر سے بچایا گیا ۔(4)
	انہی تین شہوات کی وجہ سے اکثر لوگ ہلاک ہو تے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم پیٹ اور شرم گاہ کی آفت ذکر کرنے کے بعد زبان کی آفات ذکر کرنے میں مشغول ہو ئے ہیں۔
﴿7﴾…سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے  اس عمل كے متعلق سوال كيا گیا کہ جو لوگوں کو کثرت سے جنت میں داخل کرے گا توارشاد فرمایا:”اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرنا اور حسن اخلاق ۔“ اور اس عمل کے بارے میں سوال کیا گیا جو كثرت سے جَہَنَّم میں داخل کرے گاتو ارشاد فرمایا: ”دو خالی اور كشاده جگہیں منہ اور شرم گاہ۔“(5)
	ممکن ہے منہ سے مراد زبان کی آفات ہوں کیونکہ منہ زبان کا محل ہے  اور یہ بھی ممکن ہے کہ منہ سے مراد پیٹ ہو کیو نکہ منہ پیٹ کا داخلی راستہ ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی حفظ اللسان ،۴/ ۱۸۴،حدیث : ۲۴۱۸بتغیر
2…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی حفظ اللسان ،۴/ ۱۸۴،حدیث : ۲۴۱۴
3… سنن الترمذی ، کتاب الزھد، باب فی حفظ اللسان ،۴/ ۱۸۲،حدیث : ۲۴۱۶
4…فردوس الاخبار،۲/ ۳۱۱، حدیث : ۶۳۹۴بتغیر
5…سنن الترمذی، کتاب البروالصلة، باب ماجاء فی حسن الخلق،۳/ ۴۰۴، حدیث : ۲۰۱۱