علاوہ کسی تک نہیں۔اسی طرح دیگر اعضاء کا معاملہ ہے جبکہ زبان کا میدان وسیع ہے اس کے لئے نہ کوئی رکاوٹ ہے اورنہ کوئی حد وانتہا ۔نیکی و بھلائی میں اس کا میدان وسیع ہے اور شر میں اس کا دامن لمبا ہے لہذا جو اپنی زبان کو کھلی آزادی دے دیتا ہے اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دیتا ہےتوشیطان اس کو ہر میدان میں داخل كر ديتاہے اورگرنے کے قریب گڑھے کے کنارےلے جاتا ہے حتی کہ اسے ابدی ہلاکت پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ زبان ہی لوگوں کو فضول گفتگو کے سبب جہنم میں منہ کے بل گراتی ہے ۔زبان کے شر سے وہی نجات پا سکتا ہے جو اسے شریعت کی لگام دے کر قابو کرے اور اسے ان چیزوں میں استعمال کرے جو اسے دنیا و آخرت میں نفع دیں اور اسے ہر اس چیز سے روکے جس کے فتنے و مصیبت کا دنیا و آخرت میں خوف ہو ۔ کس جگہ زبان کو استعمال کرنا اچھاہے اور کہاں برا ہے ، اس بات کا علم مخفی اور پیچیدہ ہے اور جو اس بات کو پہچان لے اس کے لئے اس پر عمل مشکل اور دُشوار ہے۔ انسان کے اَعضاء میں جس عضو سے سب سے زیادہ گناہ سر زد ہو تے ہیں وہ زبان ہی ہے کیو نکہ اس کو استعمال کرنے اور اسے حرکت دینے میں کوئی مشقت وتکلیف نہیں اٹھانی پڑتی اور لوگ اس کی آفات اور فتنے وفسادات سے بچنے اور اس کے جالوں اور پھندوں سے محتاط رہنے کے معاملے میں سستی سے کام لیتے ہیں حالانکہ انسان کو بہکانے میں یہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
زبان کی20آفات اجمالاً:
ہماللہعَزَّ وَجَلَّ کی مدداور اس کی حُسن ِتو فیق سے زبان کی آفات کو تفصیل سے ذکر کریں گے اور ایک ایک کر کے ان کی تعریفات ،ان کے اسباب اور ان کے فتنوں کو ذکر کریں گے اورزبان کے فتنوں سے بچنے کے طریقے کی پہچان کرائیں گےاور ان کی مذمت میں وارد احادیث و روایات لائیں گے۔ پہلےہم خاموشی کی فضیلت بیان کریں گےاس کے بعد(زبان کی آفات میں سے)(۱)…بے فائدہ گفتگو کی آفت کو ذکر کریں گےپھر (۲)…فضول کلام کی آفت پھر(۳)…باطل میں مشغول ہونےکی آفت پھر(۴)…مِراء وجِدال کی آفت پھر (۵)…خُصُومَت کی آفت پھر(۶)…بتکلف فصاحت کے اظہار،ہم قافیہ الفاظ کے استعمال اوربناوٹی خطابت کے دعویداروں میں پائی جانے والی باتوں کے ذریعے مشکل اور پیچیدہ کلام کرنے کی آفت پھر(۷)…فُحْش کلامی، گالی گلوچ اور بدکلامی کی آفت پھر(۸)…لعنت بھیجنے کی آفت خواہ کسی حیوان پر ہو یابے جان چیز یاانسان پر ہو