Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
330 - 1245
زبان کی آفات کا بیان
(اس میں ایک مقدمہ اور دوباب ہیں)
مقدمہ:
	تمام تعریفیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لئےہیں جس نے انسان کو اچھی اورمعتدل صورت پرپیدا کیااور اس کے اندر ایمان کا نور ڈال کر اسے ایمان سے آراستہ و مُزَیَّن کیا۔بیان سکھاکراس کے سبب (دیگر مخلوقات پر)اسے بلندی اور فضیلت عطا فرمائی اور دل میں مخفی وپوشیدہ عُلُوم ڈال کر کامل بنایاپھر اپنی رحمت  سے اس  کے دل پر پردہ  ڈال دیا۔ زبان کے ذریعے اس کی مدد فرمائی تاکہ اس کے ذریعے وہ اپنے دل اورعقل کی ترجمانی کرے  اور دل پر پڑے ہوئے پردے کو دور کرے۔ زبان کو حمد کہنے پر قدرت عطا فرمائی اور علم و کلام جیسی نعمتیں عطا کرکے شکر ادا کرنے کی نعمت سےنوازا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے ایسے بندے اور رسول ہیں جن کارب تعالیٰ  نے اعزازو اکرام فرمایااور ایسے نبی ہیں جنہیں کتاب کے ساتھ مبعوث فرمایاجس میں ہر چیز کی تفصیل ہےاور ایسے دین کے ساتھ بھیجا جس میں بندوں کے لئے آسانی ہے۔ جب تک ایک بندہ بھی تکبیر و تہلیل کرتا رہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے آپ پر، آپ کی آل پر،آپ کے اصحاب پر اورآپ کی دعوت قبول کرنے والوں پردرود نازل ہوتا رہے ۔
	بے شک زبان اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت اور اس کی بنائی ہوئی عجیب وغریب اور لطیف اشیاء میں سے ایک شےہے، اس کا سا ئز چھو ٹا لیکن اس کی اطاعت اورنافرمانی بڑی ہے اس لئےکہ کفر و ایمان کا ظُہُورمحض زبان کی شہادت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اِیمان اِطاعت کا اور کُفر نا فرمانی کا انتہائی درجہ ہے۔ ہر چیز خواہ وہ موجود ہو یا معدوم ،خالِق ہو یا مخلوق ،خیالی ہو یا معلوم،ظنی ہو یا وہمی ،ان سب کا تعلق زبان سے ہے۔ زبان ان کو ثابت کرتی ہے یا ان کی نفی کرتی ہے۔حق ہو یاباطل جس شے کو بھی علم شامل ہو زبان اسے بیان کرتی ہےاور علم ہر شے کو شامل ہے۔ یہ ایسی خاصیت ہے جو دیگر اعضاءمیں نہیں پائی جا تی کیو نکہ آنکھ کی رسائی رنگوں اور صورتوں کے علاوہ کسی تک نہیں جبکہ کان آواز کے علاوہ کچھ نہیں سن سکتے اور ہاتھ کی پہنچ اجسام کے