تکمیل کے لئے جانوروں کی سی حرکتیں کرتا ہے۔ جب انسان خود کو امر ربی تصور کرتا ہے جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے: قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ (1)“ اس وقت اپنے لئے حاکمیت کا دعوٰی کرتا ہے اورہرایک پر برتری، خُصُوصِیَّت، تمام اُمور اور ریاست میں خودمختاری پسند کرتا ہے،بندگی اور عاجزی کو ناپسند کرتا ہے۔نیز تمام عُلوم پر دسترس کا خواہش مند ہوتا ہے بلکہ تمام اشیاء کی حقیقتوں سے آگاہی اور علم ومعرفت کا دعوٰی کرتا ہے۔ اس کی طرف علم کی نسبت کی جائے تو خوش ہوتا ہے اور اگر جہل اور لاعلمی کی نسبت کی جائے تو غمزدہ ہوجاتا ہے۔
تمام اشیاء کی حقیقتوں کو جاننا اور ہرایک پر برتری ہونا رَبُوْبِیَّت کے اوصاف ہیں لیکن انسان میں انہیں پانے کی حرص پیدا کی گئی ہے۔انسان جانوروں سے ممتاز ہے لیکن غصہ اور خواہش کے اعتبار سے جانوروں کے مشابہ ہے اس لئے اس میں شیطانی اوصاف بھی رکھے گئے ہیں، جب ان اوصاف کا غلبہ ہوتا ہے تو انسان بگڑجاتا ہے اور اپنی عقل برائیوں کے حصول میں استعمال کرتا ہے، مکر وفریب اور مختلف حیلوں کے ذریعے برائیوں تک پہنچتا ہے اور بھلائی کے بجائے برائی ظاہر کرتا ہے۔ یہ تمام شیطانی صفات ہیں۔
انسان صِفاتِ اَرْبَعہ سے مُتَّصِف ہے:
ہرانسان میں یہ چاریعنی فرشتوں،شیطانوں،درندوں اور جانوروں والے اوصاف پائے جاتے ہیں، ان کا ٹھکانا دل ہے۔ گویا انسان کے اندر خنزیر، کتا، شیطان اور ایک مُدَبِّر ہے۔ خنزیر سے مراد خواہش ہے کیونکہ خنزیر اپنی شکل وصورت اور رنگ کی وجہ سے مذموم نہیں بلکہ حرص کی وجہ سے قابلِ مَذمَّت ہے۔ کتے سے مراد غصہ ہے کیونکہ کتے کی شکل وصورت کی وجہ سے لوگ اس سے نہیں ڈرتے بلکہ اس کی اصل وجہ اس کے اندر پائی جانے والی درندگی ہے۔ انسان میں یہ درندگی، غصے کی صورت میں اور خنزیر کی حرص خواہش کی صورت میں چھپی ہوتی ہے۔ خنزیری خواہش کے سبب انسان فحاشی اور نافرمانی کی طرف جاتا ہے اور درندگی کے سبب ظلم اور ایذا رسانی پر مجبور ہوتا ہے۔ نیز شیطان ہمیشہ خنزیر کی خواہش اور درندے کے غصے کو اُبھارتا ہے اور ان کے سامنے خواہش اور غصہ کو خوب مزیّن کرکے پیش کرتا اور انہیں ایک دوسرے سے بڑھاتا ہے۔ جبکہ مُدَبِّر کی مثال عقل کی سی ہے جو اپنی بصیرت کاملہ اور نورانی روشنی کے ذریعے شیطان کے مکر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے۔(پ۱۵،بنی اسرآئيل:۸۵)