وَ اَنۡذِرْہُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَۃِ اِذِ الْقُلُوۡبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کٰظِمِیۡنَ ۬ؕ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنْ حَمِیۡمٍ وَّ لَا شَفِیۡعٍ یُّطَاعُ ﴿ؕ۱۸﴾ یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوۡرُ ﴿۱۹﴾(پ۲۴،المؤمن:۱۸، ۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اُنھیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے غم میں بھرے اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے۔ اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔
اس آیت سےبھاگنے والے کہاں ہیں؟ کچھ دن گزر جانے کے بعد وہ پھر آئی اور نوجوان کے راستے پر کھڑی ہو گئی۔ جب نوجوان نے اسے دور سے دیکھا تو اپنے گھر کی طرف دوبارہ لو ٹنے کا ارادہ کیا تا کہ وہ اس عورت کو نہ دیکھ سکے۔ اس عورت نے کہا: اے نو جوان! تم مت لو ٹو آج کے بعد ہماری ملاقات صرف کل (قیامت میں) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے ہو گی، پھر زاروقطار رونے لگی اور کہنے لگی:میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے سوال کرتی ہوں کہ جس کے قبضہ میں تمہارے دل کی چا بیا ں ہیں!تمہارا مشکل معاملہ مجھ پر آسان فرمادے۔ پھر وہ اس کےپاس گئی اور کہا: مجھ پر ایک احسان کرو کہ مجھے کو ئی ایسی نصیحت کرو جسےمیں بر داشت کر سکوں اور ایسی وصیت کرو جس پر میں عمل کر سکوں۔ اس نے کہا:میں تمہیں وصیت کرتاہوں کہ خود کو اپنے نفس(کے شر) سے بچا کر رکھو اور تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان یا د دلا تا ہو ں:
وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمۡ بِالنَّہَارِ(پ۷،الانعام:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اورجانتا ہے جو کچھ دن میں کماؤ۔
راوی فرماتے ہیں:وہ عورت سر جھکا کرپہلے سے بھی زیا دہ شدت سے رونے لگی۔ پھر جب اِفاقہ ہوا تو گھر جابیٹھی اور عبا دت میں مشغول ہو گئی اور اسی حالت پر رہی حتی کہ رنج و غم کی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا۔ وہ نوجوان اس کی موت کے بعد اس کو یاد کر کے رویا کر تا تھا۔ اس سے کہاجا تا:کس وجہ سے روتے ہو جبکہ تم نے خود اسے اپنے آپ سے مایوس کیا تھا؟ تووہ کہتا: میں نے پہلے مرحلے میں ہی اس کی خواہش کو ماردیاتھا اور میں نے اس سے لاتعلقی اور علیحدگی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یہاں اپنے لئے ذخیرہ بنایا تھا تو مجھے حیا آئی کہ میں اس ذخیرے کو واپس لے لوں جسے میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس جمع کروا یا تھا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ!اللہ عَزَّوَجَلَّکے فضل وکرم سے’’پیٹ اور شرم گاہ کی شہوتیں توڑنے کا بیان‘‘ مکمل ہوا
““
٭…٭…٭…٭…٭