Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
328 - 1245
ہوں۔وہ کچھ دیر تک سر جھکائےخاموش کھڑا رہا پھر کہا:یہ تہمت کی جگہ ہے اور مجھے تہمت کی جگہ ٹھہرنا اچھا نہیں لگتا۔عورت نے کہا:میں اس جگہ اس لئے کھڑی نہیں ہو ئی کہ میں تمہارے معاملے سے نا واقف ہوں بلکہ میں خوداس بات سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پنا ہ چاہتی ہوں کہ اس طرح کے معاملے میں لوگوں کی نگاہیں میری طرف اٹھیں۔ جبکہ اس معاملے میں جس چیز نے مجھےتم سے خود ملاقات کرنے پر ابھارا وہ یہ ہے کہ میں جانتی ہوں کہ اس سلسلے میں لوگ تھوڑی سی بات کو بھی زیادہ سمجھتے ہیں اور تم عبادت گزار لوگ شیشوں کی طرح ہو کہ ادنی ٰسی چیز بھی تمہیں  عیب دار کر دیتی ہے۔میں تم سے جو کچھ کہنا چاہتی ہوں اس کا خلا صہ یہ ہے  کہ مجھے تمہارے بغیر کسی صورت قرار نہیں ہے لہٰذا میرے اور اپنے معا ملے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرو۔
	راوی کہتے ہیں:وہ نو جو ان اپنے گھر چلا گیا  اور نماز پڑھنی چاہی لیکن اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ نماز کیسے پڑھے چنا نچہ اس نے کاغذ لے کر خط لکھا پھرجب گھر سےنکلا تو عورت اپنی جگہ کھڑی تھی۔ اس نے خط اس تک پہنچایا اور دوبارہ اپنے گھر کی طرف لو ٹ گیا۔ اس خط میں لکھا تھا:بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم، اے عورت!جان لو کہ جب بندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کرتا ہےتو وہ برد باری فرماتا ہےاور جب وہ دوبارہ نا فرمانی کر تا ہے تو وہ اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے پھر جب بندہ بار بار گناہ کر تا ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس قدر غضب فرماتا ہے کہ اس سے آسمان، زمین، پہاڑ، درخت اور چو پائے تنگی میں آجاتے ہیں۔ توکون اس کے غضب کی تاب لا سکتا ہے! جو کچھ تم نے کہا ہے اگر وہ باطل اور جھو ٹ ہے تو میں تمہیں وہ دن یا د دلا تا ہوں جس دن آسمان پگھلی ہوئی دھات کی طرح اور پہاڑ اون کی مانند ہلکے ہوجائیں گےاور اُمتیں جبار ِعظیم عَزَّ  وَجَلَّ کے دبدبے کی وجہ سے گھٹنوں کے بل گری ہوں گی اور خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں خود اپنی اصلاح کے معاملے میں کمزور ہوں تو کسی دوسرے کی اصلاح کیسے کر سکتا ہوں۔ اگر تم نے سچی بات کہی ہے تو میں تمہاری راہ نمائی اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی طرف کرتا ہوں جو تڑپا دینے والے زخموں اور دردوں کا علا ج کر تا ہے،لہٰذا  صدقِ دل سے سوال کرکے اس کی با رگاہ میں رجوع کرو کیو نکہ میری توجہ تمہارے بجائے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اس فرمان کی طرف ہے :