توبہ کرنے والے پر بادل کا سایہ:
حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن عبداللہ مُزَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی سےمنقول ہے کہ ایک قَصّا ب اپنے پڑو سی کی لونڈی پر عاشِق ہوگیا۔ ایک مرتبہ پڑوسی کے گھر والوں نے اسے کسی کام کے لئے دوسرے گاؤں بھیجا تو یہ بھی اس کے پیچھے ہولیااور موقع پا کر اسے بدکاری پر آمادہ کر نے لگا۔ اس نے کہا: تم ایسامت کرو کیونکہ جتنی تم مجھ سے محبت کرتے ہو اس سے کہیں زیادہ میں تم سے محبت کر تی ہوں لیکن میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتی ہوں۔ قصاب نے کہا: جب تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےڈرتی ہو توکیا میں نہ ڈروں!پس وہ تائب ہو کر واپس لوٹ آیا۔ راستے میں اسے پیاس لگی حتّٰی کہ ہلاکت کے قریب پہنچ گیا۔ اتنے میں بنی اسرائیل کے کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا قاصد آگیا اور اس نے پو چھا:تمہیں کیا ہواہے؟ اس نےکہا: پیاس لگی ہے۔قاصد نےکہا:آؤ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کر تے ہیں کہ ہم پر بادل سایہ کر ےحتی کہ ہم بستی میں داخل ہو جائیں۔قصاب نے کہا :میرے پاس کوئی نیک عمل تو ہے نہیں کہ میں دعا کروں، لہٰذا تم ہی دعا کرو ۔قاصد نے کہا:میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہتے جانا۔ چنانچہ انہوں نے دعا کی تودعا قبول ہوگئی اور بادل نے ان دونوں پر سایہ کیایہاں تک کہ دونوں بستی میں پہنچ گئے۔ پھر قصاب اپنے مکان کی طرف جا نے لگا تو با دل بھی اس کےسا تھ ہو گیا۔ قاصد نے کہا:تمہارا تو یہ گمان تھا کہ تمہارے پاس کوئی نیک عمل نہیں ہے۔اس لئے میں نے دعا کی اور تم نے آمین کہی تو با دل نے ہم پر سایہ کیا پھر یہ بادل تمہارے ساتھ کیسے ہوگیا؟ تم اپنے معا ملے کی مجھے خبر دو۔ قصاب نے اپناواقعہ بیان کیا تو قاصد نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یہاں تو بہ کر نے والے کا جومقا م ہےوہ کسی اور کا نہیں۔
با حیا نو جوان:
حضرت سیِّدُنا سعیدبن ابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ہمارے یہاں کو فہ میں ایک عبادت گزار نوجوان تھا جو ہر وقت جا مع مسجد میں رہتا تھااور کہیں نہ جاتا تھا۔وہ خوبصورت چہرے والا، اچھی قدو قامت والا اور خوش نما شخص تھا۔ ایک عقل مند اور حسن و جمال والی عورت نے جب اسے دیکھا تو اس کی محبت میں گرفتار ہوگئی۔ طویل عرصہ تک وہ اس محبت کی آگ میں جلتی رہی الغرض ایک دن وہ اس کےراستے پر کھڑی ہوگئی نوجوان مسجدکی طرف جا رہا تھا کہ عورت نے کہا: اے نو جو ان! میری بات سن لو میں تم سے کچھ کلام کر نا چاہتی ہوں پھر تمہارا جو جی چاہے کرنا۔ وہ بغیر کوئی کلام کئےگزر گیا۔ وہ دوبارہ اس کے راستے پر کھڑی ہو گئی، اب نوجوان گھر کی طرف جا رہا تھا۔ عورت نے کہا:اے نو جو ان!میری بات سن لو میں تم سے کچھ کلام کر نا چاہتی