Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
326 - 1245
 اور تینوں اُس غار سے نکل کر چلے گئے۔(1)
	یہ اس شخص کی فضیلت ہے جو شہوت کو پورا کر نے پر قادر ہو لیکن پھر بھی گنا ہ سے بچا رہے اور اس فضیلت کے قریب وہ شخص بھی ہے جو آنکھ کی شہوت کو پورا کر نے پر قادر ہو (پھر بھی رک جائے)کیو نکہ آنکھ زنا کی بنیاد ہے لہٰذا اس کی حفاظت بہت اہم ہےاوریہ اس اعتبا ر سے مشکل بھی ہے کہ اس کے معاملےکو اہمیت نہیں دی جاتی اور اس معا ملےمیں خوف کرنے کو بڑی چیز نہیں سمجھا جا تا حالا نکہ تمام آفات اسی سے پیدا ہو تی ہیں۔
عورت  کی چادر پر بھی نظر مت ڈالو:
	پہلی نظر  اگربغیر قصد کے ہو تو اس پر مُواخَذہ نہیں ہے لیکن جب دوبا رہ نظر کر ے گا تو اس کی پکڑ ہوگی۔ سرکار مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: لَکَ الْأُوْلٰی وَعَلَیْکَ الثَّانِیَّۃ یعنی پہلی نظر تیرے لئےجا ئز اور دوسری نظر ناجا ئز ہے۔(2)حضرت سیِّدُناعَلاءبن زِیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد فرماتے ہیں:اپنی نظر کو عورت کی چادر پر بھی نہ ڈ الو کیو نکہ نظر دل میں شہوت پیدا کر تی ہے۔
دوسری بارنظر کرنے کا نقصان:
	بہت کم لوگ ا یسے ہوتے ہیں جو عورتوں اور لڑکوں پر بار بار نظر کرنے سے بچتے ہیں کیونکہ جب حسن وجمال کا خیال آتا ہے تو طبیعت دوبارہ دیکھنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اس وقت اپنے دل میں یہ خیال کرنا چاہئے کہ دوبارہ دیکھنا عین جہا لت ہے  کیو نکہ اگر اس نے نظر کی، وہ اسے اچھی لگی، شہوت بھڑک اٹھی اوروہ مطلوب تک پہنچنے سے عاجز ہواتو اسے سوائے افسوس کے کچھ حاصل نہیں ہو گا اور اگر اسے بری لگی تو لذت حاصل نہ ہوگی لہٰذا اسے دکھ پہنچے گا کیو نکہ اس کا قصد لذت حاصل کر نے کا تھا اور اس نے وہ کام کیا جس نے اسے دکھی کر دیا۔ تو دونوں ہی حالتوں میں وہ گناہ،دکھ اور افسوس سے خالی نہیں ہو گا۔ جب وہ اس طریقے سے آنکھ کی حفاظت کرے گا تو اس کے دل سے کثیر آفات ختم ہو جائیں گی۔اگر اس کی آنکھ خطا کر جائے تو قدرت ہونے کی صورت میں شرم گاہ کی حفاظت کرنا بہت  زیادہ قوت اور انتہائی توفیق کا تقاضا کر تا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب البیوع،باب اذا اشتری شيئاً لغيره...الخ،۲/ ۴۸،حديث:۲۲۱۵
2…سنن ابی داود،کتاب النکاح،باب مايؤمرمن غض البصر،۲/ ۳۵۸،حديث:۲۱۴۹