Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
325 - 1245
 جس سے غار کا منہ بند ہو گیا۔  اُنھوں نے کہا: اس چٹان سے چھٹکارا پانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ پیش کر کے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا مانگیں۔ ایک نے کہا :اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو جانتا ہے میرے والدین بہت بوڑھے تھے میں ان سے پہلے اپنے بال بچوں کودودھ پلاتانہ لونڈی غلام کو دیتاتھا۔ایک دن مجھے چارے کی تلاش میں دیر ہو گئی، میرے واپس لوٹنے تک والدین سو چکے تھے۔میں ان کے لئے دودھ لایا تو اُنہیں سوتا ہوا پایا۔ بچے بھوک سے بِلک رہے تھے مگر میں نے والدین سے پہلےبچوں، غلاموں اور لونڈیوں کو پلانا پسند نہ کیا، میں پیالہ ہاتھ میں لئے ان کے جا گنے کا انتظار کر تا رہا حتّٰی کہ صبح چمک گئی اب وہ جاگے اور دودھ پیا، اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اگر میں نے یہ کام تیری خوشنودی کے لئے کیاہے تو اس چٹان کو ہٹا دے، اس کا اتناکہنا تھا کہ چٹان کچھ سَرک گئی مگر اتنی نہیں ہٹی کہ یہ لوگ غار سے نکل سکیں۔
	دوسرے نے کہا:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! تو جا نتا ہے میرے چچا کی ایک لڑکی تھی جس کو میں بہت محبوب رکھتا تھا، میں نے اُس کے ساتھ بُرے کام کا ارادہ کیا اُس نے انکار کردیا، وہ قَحْط کی مصیبت میں مبتلا ہوئی تومیرے پاس کچھ مانگنے کو آئی، میں نے اُسے 120دیناردیے کہ میرے ساتھ خَلْوت کرےوہ راضی ہوگئی، جب مجھے اُس پر قابو ملا تو بولی کہ ناجائز طورپر اس مُہر کا توڑناتیرے لئے حلال نہیں کرتی، اس کام کو گناہ سمجھ کر میں ہٹ گیا حالانکہ وہ لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی اور دینار جو دے چکا تھا وہ بھی چھوڑ دیے، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اگر یہ کام تیری رضا جوئی کے لئے میں نے کیاہے تو اس کو ہٹا دے، اس کے کہتے ہی چٹان کچھ سرک گئی مگر اب بھی اتنی نہیں ہٹی کہ نکل سکیں۔
	تیسرے نے کہا: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میں نے چندشخصوں کو مزدوری پر رکھا تھا، اُن سب کو مزدوریاں دے دیں تھیں ایک شخص اپنی مزدوری چھوڑ کرچلاگیا، اُس کی مزدوری سے تجارت کر کے اسے بہت بڑھا دیا، وہ ایک زمانہ کے بعد آیا اور کہنے لگا:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بندے! میری مزدوری مجھے دے دے۔ میں نے کہا: یہ جو کچھ اونٹ، گائے، بیل، بکریاں، غلام تو دیکھ رہا ہے یہ سب تیری ہی مزدوری کاہےسب لے لے۔  بولا: اے بندۂ خدا! مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا:مذاق نہیں کرتا ہوں یہ سب تیر اہی ہے، لے جا۔  وہ سب کچھ لے کر چلا گیا۔ الٰہی!اگر یہ کام میں نے تیری رضا کے لئے کیا ہے تواسے ہٹا دے۔ وہ پتھر ہٹ گیا