اکیلے تشریف فرماتھے۔ آپ بےحد حسین وجمیل اور اِنتہائی مُتَّقِی و پرہیز گار شخص تھے۔ایک بُرقع پوش اَعرابیہ (یعنی دیہاتی عورت)نے آپ کو پہاڑ کی چوٹی سے دیکھ لیا اور نیچے اتر کر آپ کے سامنے کھڑی ہوگئی اوراپنے چہرے سے نقاب اٹھا دیا، اتنی حسین تھی گویا چاند کا ٹکڑا ہے۔ کہنےلگی:مجھے کچھ دیجئے۔ آپ سمجھے شاید کھانا مانگ رہی ہے۔ آپ اٹھے تاکہ اسے بچا ہو اکھانا دے دیں۔ کہنے لگی:میرایہ مقصد نہیں ہے،میں وہ چاہتی ہوں جو بیوی اپنے شوہر سے چاہتی ہے۔ آپ نے فرمایا:تجھے شیطان نے میرے پاس بھیجا ہے۔اتنا کہنے کے بعد آپ نے اپنا سر مبارک گھٹنوں کے درمیان رکھا اور باآواز بلند رونے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر اس نے بُرقعے سے اپنے چہرے کو ڈھانپا اور واپس لوٹ گئی۔ جب آپ کا رفیق آیا اور دیکھا کہ آپ کی آنکھیں سوجھ گئی ہیں اورگلا بیٹھ گیا ہےتو اس نے سبَب گریہ دَرْیافت کیا۔ آپ نے فرمایا: خیر ہے، مجھے اپنی بچی یاد آگئی تھی۔اس نے کہا: نہیں! وَاللہ! کوئی تو قصہ ہے بچی سے جدا ہوئے تو آپ کو تین دن ہو چکے ہیں۔اس کے پیہم اصرار پر آپ نے اَعرابیہ کا واقعہ بیان کر دیا۔ اس نے توشہ دان رکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ آپ نے فرمایا: تم کیوں روتے ہو؟ اس نے کہا: مجھے تو زیادہ رونا چاہئے کیو نکہ مجھے خوف ہے کہ اگر آپ کی جگہ میں ہوتا تو شاید صبر نہ کر سکتا۔ دونوں حضرات رونے لگے۔ جب حضرت سیِّدُنا سلیمان بن یسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار مکہ مکرمہ پہنچے تو سَعی و طواف سے فارغ ہو نے کے بعد حَجْرِ اَسْود کے پاس آئے اورچادر سے گھٹنوں کے گرد گھیرا با ندھ کر بیٹھ گئے۔ آپ پر نیند کا غلبہ ہونے لگا تو آپ سو گئے۔ خواب میں ایک حسن و جمال کے پیکر،مُعَطَّرمُعَطَّر خوش لباس، دراز قد بزرگ نظر آئے۔ حضرت سیِّدُنا سلیمان بن یسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ جواب دیا:میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نبی یوسف ہوں۔ میں نے عرض کی:یُوسُف صِدِّیْق؟ ارشاد فرمایا:ہاں!میں نے عرض کی:زلیخا کے ساتھ آپ کا قصہ بھی ایک عجیب واقعہ ہے۔ فرمایا: مقام ابواء پر اعرابیہ کے ساتھ ہونے والا آپ کا واقعہ عجیب تر ہے۔
چٹان ہٹ گئی:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں: میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سناکہ پچھلے زمانے کے تین شخص کہیں جارہے تھے،رات گزا رنے کے لئے انہوں نے ایک غار کا سہا را لیا، جونہی وہ غار میں داخل ہوئے تو پہاڑ کے اوپر سے ایك چٹان غار کے منہ پر آن گری