Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
323 - 1245
وجمال اور حسب والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہے کہ میں اللہ ربُّ العالمین سے ڈرتا ہوں۔(1)
لوگوں کے اِمام:
	حضرت سیِّدُنا یُوسُف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ لوگوں کے درمیان معروف ہے کہ آپ کو زلیخا پر قدرت حاصل تھی اور آپ کی طرف اس کورغبت بھی تھی اس کے با وجودآپ اس کے قریب  جانے سے بچے رہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےاپنی کتابِ عزیز میں اس عمل کے سبب  آپ کی تعریف فرمائی ہے اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام اس بڑی شہوت میں مجاہدہ کی توفیق پانےوالے تمام لوگوں کے امام ہیں۔
پاک دامن کو سیِّدُنایوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کی زیارت:
	حضرت سیِّدُنا سُلَیْمان بن یَسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار بے حد خوب رو اورحسین تھے ۔ ایک عورت آپ کے پاس آئی اور بدکاری کی دعوت دی تو آپ نے انکار کر دیا اوراسے گھر میں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ حضرت سیِّدُنا سلیمان بن یسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں: میں نے اسی رات خواب میں حضرت سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھاگویا میں ان سے کہہ رہا ہوں:آپ یو سف ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں!میں وہی یوسف ہوں جو ارادہ کر لیتا(اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھتا)اور تم سلیمان ہو جس نے  ارادہ نہیں کیا ۔
	آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس بات سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اس فرمان کی طرف اشارہ فرمایا:
وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ ۚ وَہَمَّ بِہَا لَوْلَاۤ اَنۡ رَّاٰبُرْہَانَ رَبِّہٖ ؕ(پ۱۲،يوسف:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بیشک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا۔
برقع پوش اَعرابیہ:
	حضرت سیِّدُنا سُلَیْمان بن یسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کے بارے میں اس سے بھی زیادہ عجیب ایک حکایت منقول ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ مدینہ منورہ سے حج کے لئے نکلے، آپ کے ساتھ ایک رفیق سفربھی تھا حتی کہ دونوں نے مقام اَبْواء میں قیام کیا۔آپ کا رفِیْقِ  سَفَراٹھا اور توشہ دان لے کر کچھ خریدنے کے لئے بازار چلا گیا۔ آپ خیمے میں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب الزکاة،باب الصدقة  باليمين،۱/ ۴۸۰،حديث:۱۴۲۳